1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. ملازمت
  4. اوقات ملازمت

لاک ڈاؤن کے دوران گزرے مہینوں کی تنخواہ کا حکم

سوال

لاک ڈاؤن میں تنخواہیں لینے کے جواز و عدمِ جواز کے متعلق فتوی درکار ہے!

جواب

جن اداروں، کارخانوں اور دکانوں کے کارکن یا گھریلو ملازمین لاک ڈاؤن کے دورانیہ میں اپنی خدمات باقاعدہ طور پر انجام نہیں دے سکے، اس میں مالکان وملازمین کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہے، یہ رکاوٹ ملکی حالات اور سرکاری احکامات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، اس لیے شرعاً مالک اور ملازم اپنے طے شدہ اصولوں کے مطابق معاملہ کرنے کے پابند رہیں گے، اس لیے کہ یہ تمام افراد قانونِ شریعت کی اصطلاح میں ’’اجیرِخاص‘‘ کہلاتے ہیں، جن کی طرف سے مفوضہ امور میں کوئی کوتاہی نہ ہو تو وہ اُجرت (تنخواہ) کے مستحق ٹھہرتے ہیں، البتہ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ جس طرح ملازمین کی تنخواہ کے مسائل ہیں، اسی طرح مالک کی آمدن کی پریشانیاں بھی ایک حقیقت ہے، اس لیے دونوں فریق باہمی مصالحت سے دو طرفہ رعایت پر مبنی صورت طے کرلیں، جس سے مزدور و ملازم کا چولہا بھی جلتا رہے اور مالک پر بھی بوجھ نہ پڑے۔

فتاوی شامی میں ہے:

والثاني: وہو الأجیر الخاص ویسمی أجیر واحد، وہو من یعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصیص، ویستحق الأجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ۔‘‘ (الدر المختار مع الشامي، الإجارۃ، باب ضمان الأجیر، مبحث الأجیر الخاص،ج: ۴،ص:۴۹، ط:سعید)

موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:

’’قال ط: وفیہ أنہ إذا استؤجر شہرا لرعي الغنم کان خاصا وإن لم یذکر التخصیص، فلعل المراد بالتخصیص أن لایذکر عموما سواء ذکر التخصیص أو أہملہ، فإن الخاص یصیر مشترکا بذکر التعمیم کما یأتي في عبارۃ الدرر (قولہ وإن لم یعمل) أي إذا تمکن من العمل، فلو سلم نفسہ ولم یتمکن منہ لعذر کمطر ونحوہ لا أجر لہ کما في المعراج عن الذخیرۃ۔ ’’الأجیر الخاص ہو من یعمل لمعین عملا مؤقتا، ویکون عقدہ لمدۃ ویستحق الأجیر بتسلیم نفسہ في المدۃ: لان منافعہ صارت مستحقۃ لمن استاجرہ في مدۃ العقد۔ ‘‘ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ، ج:۱،ص:۲۸۸۔ ملتقی الأبحر علی مجمع الأنہر، الإجارۃ ، ج:۳، ص:۵۲۸-۵۴۷، ط:دارالکتب العلمیۃ ، بیروت )

وفیہ ایضاً:

استأجر أجیرا شہرا لیعمل لہ کذا لایدخل یوم الجمعۃ للعرف… الخ۔‘‘ (ج:۴، ص:۴۱۷، ط: رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

’’وہل یأخذ أیام البطالۃ کعید ورمضان لم أرہ وینبغی إلحاقہٗ ببطالۃ القاضي، واختلفوا فیہا ، والأصح أنہ یأخذ: لأنہا للاستراحۃ ، أشباہ من قاعدۃ العادۃ محکمۃ۔‘‘ (رد المحتار ، ج:۴ ،ص:۳۷۲، ط: سعید)


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144202200583
تاریخ اجراء :01-10-2020

فتوی پرنٹ