1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. طہارت
  4. جنابت ، حیض اور نفاس کے احکام

قطرہ قطرہ حیض آنے کی صورت میں نماز کا حکم

سوال

مجھے آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا تھا، جنوری سے مجھے حیض میں پریشانی ہو رہی ہے مجھے مسلسل خون آتا ہے، ایک ایک قطرہ، اور جب حیض کے دن آتے ہیں تو عام حیض شروع ہو جاتے ہیں، مگر اس مہینے مجھے خون تو مسلسل آرہا ہے، ایک ایک قطرہ مگر حیض نہیں آئے، مجھے ڈاکٹر نے کوئی بیماری بتائی ہے اور آپریشن کا بولا ہے مگر فی الحال آپریٹ نہیں کروانا چاہتی،جنوری میں جب مجھے خون کی پریشانی ہوئی تو میں نے اپنی باجی جان  سے پوچھا کے نماز کا کیا کروں؟ تو انہوں نے مجھے قرآن پاک تو پرھنے سے منع کیا اور نماز کا بولا کے پندرہ دن پڑھو اور پھر دس دن نہ پڑھو پھر پندرہ دن پڑھو اور پھر اگر طبیعت ٹھیک نہ ہو تو دس دن چھوڑ دو اور روزہ رکھنے کو بھی منع کیا تو میں جنوری سے یہی ترتیب کر رہی ہوں قرآن پاک نہیں پڑھ رہی ہوں اور روزے بھی نہیں رکھ رہی، اب میری باجی جان نے کہا ہے کہ میں دارالافتاء سے مسئلہ پوچھوں کے کیا ترتیب ہوگی نماز، قرآن پاک، اور روزے کی اور رمضان کس ترتیب سے گزاروں.

جواب

ماہواری کے ایام میں خون جس طرح بھی آئے اس کو حیض ہی کہا جائے گا، اسی طرح  ماہوراری کے ایام میں جب پہلی مرتبہ دھبہ نظر آئے  اور وقفہ وقفہ سے دھبہ دکھائی دیتا رہے تو عادت کے پورے ایام  ناپاکی کے ایام شمار ہوں گے اور جو اس سے زائد ہیں وہ بیماری کا خون ہو گا اس میں نماز روزہ معاف نہیں ہے۔

پھر دیکھا جائے گا کہ کیا  آپ ماہواری کے خون اور بیماری کے خون میں فرق کر سکتی ہیں یا نہیں، اگر دونوں قسم کے خونوں میں امتیاز کرنا ممکن ہو اور دونوں میں سے ہر ایک کی کوئی علامت ہو تو علامت کے مطابق ہر خون پر ماہواری یا بیماری کا حکم لگایا جائے گا، اور اگر دونوں میں امتیاز کرنا ناممکن ہو اور بیماری مستقل ہو تو  ہر مہینے دس دن ماہواری شمار ہوں گے اور بقیہ ایام بیماری کے شمار ہوں گے۔فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143908200477
تاریخ اجراء :06-05-2018

فتوی پرنٹ