1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. سود / بینکاری / انشورنس / شیئرز
  4. متفرقات سود

آڈٹ فرم میں تجربہ کے لیے جانے والوں کا کمپنی سے خرچ لینا جب کہ وہ خرچ بعد میں بینک سے وصول کیا جاتا ہو

سوال

میں چارٹرڈ اکاوئنٹنٹ کا کورس کررہا ہوں ، اور ہمیں تجربہ کے لیے  آڈٹ فرم میں شامل ہونا پڑتا ہے، اب جس آڈٹ فرم سے میں وابستہ ہوا ہوں انھوں نے مجھے فنائینشل سیکٹر کے آڈٹ پر بھیج دیا جیسے کہ بنک اور لیزنگ کمپنیاں وغیرہ، مسئلہ یہ ہے کہ  فرم ہمیں کلائینٹ کے پاس جانے کے لیے کنوینس اور کبھی کبھار کھانا، ریفریشمنٹ  کی مد میں خرچ  دیتی ہے، لیکن وہ یہ ساری چیزیں تھورڑے عرصہ بعد انہی بنکوں اور لیزنگ کمپنیوں سے وصول کرلیتی ہیں جب بلنگ ہوتی  ہے، تو میراسوال یہ ہے کہ ان پیسوں کا لینا جائز ہے؟

جواب

آپ کی آڈٹ فرم بینک اور لیزنگ کمپنی سے جو اخراجات وصول کرتی ہے یہ اخراجات بینک اور لیزنگ کمپنی کی اس آمدن سے دیے جاتے ہیں جو شرعا حرام ہیں ،اس لیے سائل کے لیے ان پیسوں کا لینا جائز نہیں ہے ، واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143805200018
تاریخ اجراء :19-02-2017

فتوی پرنٹ