1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. متفرق کتب
  3. متفرق ابواب
  4. متفرق فصول

بھنوؤں کو معتدل بنانا

سوال

بھوئیں اگر زیادہ گھنی ہوجائیں اور دیکھنے میں بدنما اور بری معلوم ہوں تو کیا انہیں  کچھ کم کرنے کی اجازت ہوگی؟ اگر کچھ اجازت ہے تو اس کی کیا صورت ہو گی؟ کس طریقہ سے کم کیے جائیں  گے؟

جواب

 عورت کے لیے بھنووں کے اطراف سے بال اکھاڑ کر باریک دھاری بنانا جائز نہیں، اس پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے،  اسی طرح  دونوں بھنووں کے درمیان کے بال زیب وزینت کے حصول کے لیے کتروانا جائز نہیں، البتہ اگر  بھنویں بہت زیادہ پھیلے ہوئے ہوں یعنی عام بھنووں سے زیادہ پھیلی ہوں اور عیب دار معلوم ہوتی ہوں  تو ان کو درست کرکے عام حالت کے مطابق   (ازالۂ عیب کے لیے) معتدل کرنے کی گنجائش ہے۔ اور اس کے لیے کوئی بھی مناسب تدبیر کی جاسکتی ہے۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار (6/ 373):

"( والنامصة إلخ ) ذكره في الاختيار أيضاً، وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد؛ لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه؛ لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء.  وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلاتحرم إزالته بل تستحب".

فقط والله أعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144111201444
تاریخ اجراء :16-07-2020

فتوی پرنٹ