1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

حجِّ تمتع میں دم شکر کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں روزوں کو متفرق رکھنے کا حکم

سوال

 حج تمتع میں قربانی نہیں کرسکا،  اب جو سات  روزے ہیں،  وہ گھرپر رکھنے ہیں، تو   انہیں لگاتار   ایک ساتھ رکھنا ہی ضروری ہوگا یا الگ الگ بھی رکھ سکتے ہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ حجِّ تمتع میں متمتع  (ایام حج میں عمرہ کا احرام کھول کر حج کی نیت کرنے والے) پر  "دمِ شکر"   واجب ہوتا ہے، تاہم اگر دِم شکر کی استطاعت نہ ہو تو اس کے ذمہ دمِ شکر کے بجائے  دس روزے رکھنا واجب ہوگا،  تین روزے  اشہر ِحج میں عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد کسی بھی دن ایّامِ تشریق  (دس ذی الحجہ ) سے پہلے مکہ مکرمہ میں اور  سات روزے ایّامِ تشریق گزرنے کے بعد گھر میں یا چاہے تو  وہیں مکہ مکرمہ میں رکھنے ہوں گے، اور  مذکورہ روزے رکھنے میں اختیار ہوگا،  چاہے   پے در پے رکھے یا الگ الگ وقفہ کے ساتھ رکھے، تاہم مسلسل ایک  ساتھ رکھنا افضل ہے۔

ملحوظ رہے اگر  ان دس روزوں میں سے پہلے تین روزے ایّامِ تشریق سے پہلے نہیں رکھے گئے تو ہر حال میں پھر دم لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وإن عجز صام ثلاثة أيام) ولو متفرقة (آخرها يوم عرفة) ندبا رجاء القدرة على الأصل، فبعده لا يجزيه؛ فقول المنح كالبحر بيان للأفضل فيه كلام (وسبعة بعد) تمام أيام (حجه) فرضا أو واجبا، وهو بمعنى أيام التشريق (أين شاء) لكن أيام التشريق لا تجزيه - {وسبعة إذا رجعتم} [البقرة: 196]- أي فرغتم من أفعال الحج،

(قوله ولو متفرقة) أشار إلى عدم لزوم التتابع ومثله في السبعة، وإلى أن التتابع أفضل فيهما كما في اللباب (قوله آخرها يوم عرفة) بأن يصوم السابع والثامن والتاسع."

(كتاب الحج، باب القران، ج:2، ص:533، ط:ايج ايم سعيد) 

فقط والله اعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144207200313
تاریخ اجراء :18-02-2021

فتوی پرنٹ