1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. سود / بینکاری / انشورنس / شیئرز
  4. سودی قرضہ کی لین دین

کریڈٹ کارڈ بنانے اور پیمنٹ کرتے وقت اس کارڈ سے ملنے والی رعایت کا حکم

سوال

ہم دوستوں کے پاس بنک الفلاح کا کریڈٹ کارڈ ہے،  جس پر ایک ماہ کے اندر  رقم جمع کروا دیں تو کوئی اضافی رقم نہیں دینی پڑتی، کارڈ کے استعمال پر بنک کی جانب سے پوائنٹس ملتے ہیں،  ایک پوائنٹ ایک روپے کا ہوتا ہے جو کہ شاپنگ  کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، کیا یہ سب جائز ہے ؟

جواب

کریڈٹ کارڈ بنانے کا حکم:

کسی معاملے کے حلال وحرام ہونے کا مدار درحقیقت وہ معاہدہ ہوتا ہے جو فریقین کے درمیان طے پاتا ہے، کریڈٹ کارڈ لینے والا کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے بینک اور دیگر اداروں کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں لی جانے والی رقم واپس نہ کر سکا تو ایک متعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر سود ادا کروں گا۔ جس طرح سود کا لینا حرام ہے اسی طرح اس کا معاہدہ کرنا بھی شرعا ناجائز اور حرام ہے۔ اس بنیاد پر بالفرض اگر کریڈٹ کارڈ لینے والا  شخص  لی گئی رقم مقررہ مدت میں واپس  کردے تو بھی معاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے اصولی طور پر کریڈٹ کارڈ کا استعمال نا جائز ہے۔ اور اگر مقررہ مدت کے بعد سود کے ساتھ رقم واپس کرتا ہے تو اس کے ناجائز ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے، اس لیے ادائیگی کی صورت کوئی بھی ہو اس سے قطع نظر نفسِ معاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ بنوانا ہی ناجائز ہے۔

کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کارڈ ہولڈر کو ملنے والی رعایت کا حکم:

جب یہ بات واضح ہوگئی کہ کریڈٹ کارڈ بنانا ہی جائز نہیں ہے تو اس کارڈ پر پوائنٹ کے ذریعے کارڈ ہولڈر کو  ملنے والی رعایت کا حکم یہ ہے کہ پیمنٹ کرتے وقت جو رعایت بینک کی طرف سےکارڈ ہولڈر کو کریڈٹ کے ذریعے ملتی ہے، یہ رعایت حاصل کرنا بھی شرعاً ناجائز ہے، کیوں کہ یہ رعایت بینک کی طرف سے کارڈ ہولڈر کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی وجہ سے مل رہی ہے جو شرعاً قرض کے حکم میں ہے اور جو فائدہ قرض کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے وہ سود کے زمرے میں آتا ہے، جس سے اجتناب کرنا ہر مسلمان کے ذمہ لازم ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

وفي الأشباه كل قرض جر نفعًا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.

(قوله: كلّ قرض جر نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر.

ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطًا صار قرضًا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به اهـ ما في المنح ملخصًا وتعقبه الحموي بأن ما كان ربًا لايظهر فيه فرق بين الديانة والقضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح."

(مطلب كلّ قرض جر نفعًا حرام، ج:5،ص:166،ط:ایچ ایم سعید)

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"ماحرم فعله حرم  طلبه".

(القاعدة الرابعة عشر،ج:1،ص:348،ط:مکتبه علمیه)

فقط والله اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144207200319
تاریخ اجراء :18-02-2021

فتوی پرنٹ