1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

کیا حرم میں گناہ کا وبال ایک لاکھ گناہ کے برابر ہے؟

سوال

 حرم  میں  گناہ کرناایک  لاکھ گناہ کرنے  کے  برابر ہے اس کی کو ئی دلیل؟

جواب

مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ثواب  ، ایک لاکھ نماز وں کے برابر ہونے  کا ذکر تو احادیث میں موجود ہے، لیکن   ایک گناہ، ایک لاکھ گناہ  کے برابر ہونے کا ذکر روایت میں نہیں ملتا، البتہ         جس طرح مسجد الحرام  عبادت کا ثواب اور جگہوں سے زیادہ ہے، اسی طرح  ان جگہوں پر  گناہ  کرنے کا وبال اور عذاب بھی زیادہ ہے، قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ} [الحج: 25]

ترجمہ :  بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور (مسلمانوں کو) اللہ کے راستہ سے اور مسجد حرام (علیہ السلام) (یعنی حرم) سے روکتے ہیں،  جس کو ہم نے تمام آدمیوں کے واسطے مقرر کیا ہے کہ اس میں سب برابر ہیں،  اس میں رہنے والا بھی اور باہر سے آنے والا بھی،  (یہ روکنے والے) لوگ معذب ہوں گے اور جو شخص اس میں (یعنی حرم میں) کوئی خلاف دین کا قصد ، ظلم (یعنی شرک و کفر) کے ساتھ کرے گا تو ہم عذاب دردناک (کا مزا)  چکھائیں  گے۔ (از بیان القرآن)

مفسرین نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ حرم میں گناہ کا وبال  باقی جگہوں کی بنسبت بہت زیادہ ہے، جیساکہ حکیم الامت رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں  لکھا ہے:

” ہرچند کہ دین کے خلاف کرنا ہر جگہ موجبِ عذاب ہے، لیکن حرم کے اندر اور زیادہ موجب عذاب ہے“۔(بیان القرآن) 

أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (5 / 63):

 " وخص الله تعالى الحرم بالوعيد في الملحد فيه تعظيما لحرمته ولم يختلف المتأولون للآية أن الوعيد في الإلحاد مراد به من ألحد في الحرم كله وأنه غير مخصوص به المسجد وفي ذلك دليل على أن قوله والمسجد الحرام الذي جعلناه للناس سواء العاكف فيه والباد قد أريد به الحرم لأن قوله ومن يرد فيه بإلحاد هذه الهاء كناية عن الحرم وليس للحرم ذكر متقدم إلا قوله والمسجد الحرام فثبت أن المراد بالمسجد هاهنا الحرم كله

وقد روى عمارة ابن ثوبان قال أخبرني موسى بن زياد قال سمعت يعلى بن أمية قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم احتكار الطعام بمكة إلحاد.

وروى عثمان بن الأسود عن مجاهد قال بيع الطعام بمكة إلحاد وليس الجالب كالمقيم وليس يمتنع أن يكون جميع الذنوب مرادا بقوله بإلحاد بظلم فيكون الاحتكار من ذلك وكذلك الظلم والشرك وهذا يدل على أن الذنب في الحرم أعظم منه في غيره ويشبه أن يكون من كره الجوار بمكة ذهب إلى أنه لما كانت الذنوب بها تتضاعف عقوبتها آثروا السلامة في ترك الجوار بها مخافة مواقعة الذنوب التي تتضاعف عقوبتها۔وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال يلحد بمكة رجل عليه مثل نصف عذاب أهل الأرض."

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144210200620
تاریخ اجراء :27-05-2021

فتوی پرنٹ