1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

میت کو دفن کرنے کے بعد سورت بقرۃ کا دم کیا ہوا پانی قبر پرڈالنا

سوال

تدفین کے بعد قبر پر سورۃ بقرۃ پڑھ کر اس کا دم کیا ہوا پانی ڈالنا کیسا ہے؟ کیا ایسا کرنا کسی حدیث سے ثابت ہے؟ 

جواب

میت کو دفن کرنے کے بعد جب قبر پر مٹی ڈال دی جائے تو میت کے سرہانے  سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیتیں ”الم“ سے ”المفلحون “  تک پڑھنا، اور میت کی پائینتی جانب  سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں ”آمن الرسول“ سے آخر تک پڑھنا مستحب ہے، اور حدیث سے ثابت ہے، لیکن سورۃ  البقرۃ  پڑھ کر اس کا دم کیا ہوا پانی قبر پڑڈالنا ثابت نہیں ہے ،اس سے اجتناب کر نا ضروری ہے ۔

البتہ  تدفین کے موقع پر قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد عام پانی(بغیر دم کیا ہوا )  چھڑکنا مستحب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد اور اپنے صاحب زادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہما کی قبر پر پانی چھڑکا تھا اور حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر پر پانی چھڑکنے کا حکم فرمایا تھااور اس کی   ظاہری وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ پانی کے چھڑکنے سے قبر کی مٹی بیٹھ جاتی ہے اور ہوا سے گرد کے ساتھ اڑنے سے بچ جاتی ہے۔

حدیثِ مبارک میں ہے:

'' عن عبد الله بن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا مات أحدكم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره، وليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة وعند رجليه بخاتمة البقرة». رواه البيهقي في شعب الإيمان. وقال: والصحيح أنه موقوف عليه''۔

(1/ 149، باب دفن المیت، الفصل الثالث، ط؛ قدیمی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا بأس برش الماء عليه) حفظًا لترابه عن الاندراس.

(قوله: ولا بأس برش الماء عليه) بل ينبغي أن يندب؛ «لأنه صلى الله عليه وسلم فعله بقبر سعد»، كما رواه ابن ماجه، «وبقبر ولده إبراهيم»، كما رواه أبو داود في مراسيله، «وأمر به في قبر عثمان بن مظعون»، كما رواه البزار، فانتفى ما عن أبي يوسف من كراهته؛ لأنه يشبه التطيين، حلية".

(رد المحتار2/ 237ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144210200412
تاریخ اجراء :24-05-2021

فتوی پرنٹ