1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

مہر مؤجل و مہر معجل

سوال

کیا غیر معجل حق مہر قبول کروایا جاتا ہے  دولہے  سے؟

جواب

مہر کی دو قسمیں ہوتی ہیں، ایک معجل اور دوسرا مؤجل، معجل سے مراد وہ مہر ہوتا ہے جس کا ادا کرنا نکاح کے فوری بعد ذمہ میں واجب ہوجاتا ہے اور بیوی کو نکاح کے فوری بعد اس کے مطالبہ کا پورا حق حاصل  ہوتا ہے، جب کہ مؤجل سے مراد وہ مہر ہوتا ہے جس کی ادائیگی نکاح کے بعد فوری واجب نہ ہو، بلکہ اس کی ادائیگی کے لیے کوئی خاص میعاد (وقت) مقرر کی گئی ہو یا اس کی ادائیگی کو مستقبل میں بیوی کے مطالبے پر موقوف رکھا گیا ہو،  اگر کوئی خاص میعاد مقرر کی گئی ہو تو بیوی کو اس مقررہ وقت کے آنے سے پہلے اس مہر کے مطالبے کا حق نہیں ہوتا، اور اگر بیوی کے مطالبہ پر موقوف رکھا گیا ہو تو بیوی جب بھی مطالبہ کرے گی اس وقت شوہر کے ذمہ یہ مہر ادا کرنا لازم ہوجائے گا، لیکن   اگر مہر مؤجل کے لیے نہ تو کوئی خاص میعاد رکھی گئی ہو یا نہ ہی بیوی کے مطالبہ کو میعاد بنایا گیا ہو  تو پھر اس صورت میں اس کی ادائیگی طلاق یا موت کی وجہ سے فرقت کے وقت لازم ہوگی۔

مہر کا معجل یا مؤجل مقرر کرنا زوجین کی آپس کی رضامندی پر موقوف ہوتا ہے، چاہے  سارا مہر معجل مقرر کیا جائے، چاہے سارا کا سارا مؤجل مقرر کیا جائے اور چاہے تو مہر کا کچھ حصہ معجل طے کیا جائے اور کچھ حصہ مؤجل طے کیا جائے، یعنی مثلاً ایک لاکھ مہر مقرر کیا جائے اور طے یہ ہو کہ اس میں سے پچاس ہزار روپے کی ادائیگی معجل (فوری لازم) ہوگی اور باقی پچاس ہزار روپے کی ادائیگی مؤجل (تأخیر سے لازم) ہوگی،  یہ تمام صورتیں درست ہیں۔

اس تمام تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے مہر معجل ہو یا غیر معجل (یعنی مؤجل) بہر صورت نکاح کے وقت شوہر کا اسے قبول کرنا ضروری  ہے، اگر شوہر مہر کی مقدار قبول کرلے (خواہ دلی طور پر رضامند نہ ہو، لیکن قبول کرنے کا اظہار کرلے)  تو وہ اس کے ذمے لازم ہوگا، اور مہر مؤجل (جسے سائل نے غیر معجل لکھاہے) اگر عند الطلب ہو تو وہ بیوی کے مطالبے پر ادا کرنا لازم ہوگا، عوام الناس میں جو بات مشہور ہے کہ  ’’ مہر مؤجل صرف دو حالتوں میں ادا کرنا ہوتا ہے، ایک طلاق کی صورت میں اور دوسرا جب خاوند کی موت واقع ہوجائے‘‘  درست نہیں، کیوں کہ مہر مؤجل کی ادائیگی تو ہر حال میں ذمہ پر واجب ہوتی ہی ہے، البتہ بیوی کو مطالبہ کا حق حاصل ہونے اور ادائیگی لازم ہونے میں اوپر ذکر کردہ تفصیل ہے۔

حوالہ جات (دلیل) :

الفتاوى الهندية (1/ 318):

"وإن بينوا قدر المعجل يعجل ذلك، وإن لم يبينوا شيئاً ينظر إلى المرأة وإلى المهر المذكور في العقد أنه كم يكون المعجل لمثل هذه المرأة من مثل هذا المهر فيجعل ذلك معجلاً ولايقدر بالربع ولا بالخمس وإنما ينظر إلى المتعارف، وإن شرطوا في العقد تعجيل كل المهر يجعل الكل معجلاً ويترك العرف، كذا في فتاوى قاضي خان ... ولو قال: نصفه معجل ونصفه مؤجل كما جرت العادة في ديارنا ولم يذكر الوقت للمؤجل اختلف المشايخ فيه قال بعضهم: لايجوز الأجل ويجب حالاً، وقال بعضهم: يجوز ويقع ذلك على وقت وقوع الفرقة بالموت أو بالطلاق، وروى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - ما يؤيد هذا القول، كذا في البدائع.

لا خلاف لأحد أن تأجيل المهر إلى غاية معلومة نحو شهر أو سنة صحيح، وإن كان لا إلى غاية معلومة فقد اختلف المشايخ فيه، قال بعضهم: يصح وهو الصحيح وهذا؛ لأن الغاية معلومة في نفسها وهو الطلاق أو الموت ألا يرى أن تأجيل البعض صحيح، وإن لم ينصا على غاية معلومة، كذا في المحيط. وبالطلاق الرجعي يتعجل المؤجل ولو راجعها لايتأجل، كذا أفتى الإمام الأستاذ، كذا في الخلاصة".

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144210200137
تاریخ اجراء :22-05-2021

فتوی پرنٹ