1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

رمضان کا روزہ جان بوجھ کر یا عذر کی وجہ سے توڑدینا

سوال

رمضان  كا روزه اگر جان بوجھ کر  بنا کسی وجہ یا  مجبوری  کے توڑ دیا تو اس کا کفارہ کیا ہے؟

جواب

 وہ شخص جس میں روزہ فرض ہونے کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں، رمضان کے اُس اَدا روزے میں جس کی نیت صبح صادق سے پہلے کرچکا ہو عمداً  روزہ توڑدے، یعنی بدن کے کسی جوف میں قدرتی یا مصنوعی منفذ (Opening) سے کوئی ایسی چیز پہنچائے جو انسان کی غذا یا دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہو یا جماع کرے یا کرائے ان تمام صورتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور روزے کی قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہوگا، اور اس فعل پر توبہ واستغفار بھی کرنا لازم ہوگی۔

روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ایک روزہ توڑنے کے بدلے مسلسل بلاناغہ ساٹھ روزے رکھے، درمیان میں ایک دن بھی روزہ چھوڑ دیا تو از سر نو ساٹھ روزے رکھنے ہوں گے، اگر روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو  دو  وقت  کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانا واجب ہوگا، جوان صحت مند آدمی کےلیے کفارے میں روزے چھوڑ کر مسکین کو کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ نیز کفارے کے علاوہ جو روزہ توڑا ہے، اس کی قضا بھی کرنی ہوگی۔

اور اگر کسی شرعی عذر کی وجہ روزہ توڑا ہو تو  اس کی صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا، شرعی عذر  معلوم کرنے کے لیے  مجبوری کی صورت واضح  لکھ کر ارسال کرکے حکم معلوم کرلیں۔

الفتاوى الهندية (1/ 205):
"من جامع عمداً في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولايشترط الإنزال في المحلين، كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعةً، وإن كانت مكرهةً فعليها القضاء دون الكفارة... إذا أكل متعمداً ما يتغذى به أو يتداوى به يلزمه الكفارة، وهذا إذا كان مما يؤكل للغذاء أو للدواء فأما إذا لم يقصد لهما فلا كفارة وعليه القضاء، كذا في خزانة المفتين ... وإذا أصبح غير ناو للصوم ثم نوى قبل الزوال ثم أكل فلا كفارة عليه، كذا في الكشف الكبير". 

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144210200153
تاریخ اجراء :22-05-2021

فتوی پرنٹ