1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. فسخ و تفریق

عدالتی فیصلہ خلع /تنسیخ نکاح

سوال

ایک عورت نے ایک مرد سے شادی کی تھی ،شادی کے بعد اس کی بیوی نے عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کی ، لیکن شوہر نہ عدالت میں حاضر ہوا اور نہ ہی عدالتی خلع پر رضامندی کا اظہار کیا ۔اس عورت نے ڈگری حاصل کرنے کے عدت گزار کر ایک دوسرے آدمی سے شادی کی اور ابھی اسی کے ساتھ رہ رہی ہے۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ مذکورہ عورت کا عدالتی خلع کی وجہ سے پہلے شوہر سے نکاح ختم ہوا یا نہیں ؟اور دوسرے شوہر سے نکاح درست ہوا یا نہیں ؟عدالتی خلع کی ڈگری انگلش اور اردو ترجمہ دونوں منسلک ہیں۔

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ عورت نے عدالت میں اپنے  شوہر کے خلاف ظلم و زیادتی اور نان و نفقہ مہیا نہ کرنے کی بنیاد پر  مقدمہ دائر کیا، لیکن اس نے  عدالت میں اپنے  اس دعوی کو شرعی شہادت سے ثابت نہیں کیاجب کہ کسی بھی دعوی کے معتبر ہونے کے لیے شرعی شہادت سے اس کا ثبوت ضروری ہوتا ہے ، شرعی شہادت کے بغیر نہ  کوئی دعوی شرعاً  ثابت  ہوتا ہے اور نہ معتبر ،  لہذا   نکاح جیسے مقدس رشتے کو  ختم کرنے کا دعوی شرعی شہادت کے بغیر کیسے ثابت ہو گا۔ 

اس لیے صورت ِ مسئولہ میں عدالت نے عورت کے حلفیہ بیان پر اعتماد کرکے  اس کے حق میں جو مذکورہ ڈگری جاری کی ہے وہ شرعاً معتبر نہیں ہے؛ کیوں کہ عورت پر شرعاً لازم تھا کہ وہ اپنے دعوی کو شرعی شہادت سے ثابت کرتی ؛لہذا عورت کا نکاح اپنےپہلے  شوہر سے بدستور برقرار ہے جس کی وجہ سے مذکورہ شخص کانکاح مذکورہ  عورت سے منعقد ہی  نہیں ہوا؛لہذا مذکورہ شخص کا اس عورت کے ساتھ رہنا ناجائز اور حرام ہے، ابھی فورا الگ ہو جائیں اور جتنا عرصہ  ساتھ رہے ہیں اس پر دونوں خوب توبہ و استغفار کریں۔ 

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

[فصل في حجة المدعي والمدعى عليه]

(فصل) :وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله - عليه الصلاة والسلام - «‌البينة ‌على ‌المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل - عليه الصلاة والسلام - البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين.

(كتاب الدعوی،فصل في حجة المدعي والمدعى عليه:225/6،ط:دار الکتب العلمیۃ)

و فیہ ایضاً:

[فصل أن لاتكون ‌منكوحة ‌الغير]ومنها أن لا تكون ‌منكوحة ‌الغير، لقوله تعالى: {والمحصنات من النساء} [النساء: ٢٤] 

(كتاب النكاح، فصل أن لاتكون ‌منكوحة ‌الغير:268/2،ط:دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144303100668
تاریخ اجراء :25-10-2021

فتوی پرنٹ