1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

مستحق زکوۃ

سوال

میں باجرے کا کام کرتا ہوں میں اپنی دکان کا مال ادھارپر لیتا ہوں ،مال بیچ کر پیسے آگے سیٹھ کو دیتا ہوں جس سیٹھ سے میں مال لیتا ہوں وہ اپنی ذمہ داری پر مال دیتے تھے مگر میں اب  بہت  زیادہ قرض  دار ہوچکا ہوں ادھار مال لے لے کر کیونکہ  میں شوگر  کا مریض ہوں  اور دکان پر اپنی طبیعت کی وجہ سے  زیادہ نہیں بیٹھ پاتا  جس کی وجہ سے میں نے  دکان پر دو لڑکے رکھے ہیں  وہ ہی دکان دیکھتے  ہیں،  میں بس جاتا ہوں  بیٹھتا ہوں  مال بھی لے کر ڈلواتا ہوں  ، مگر  پیسے پورے نہیں ہوپاتے  ،میں دن بدن  قرض دار  ہوتا جارہا ہوں ،  پھر دوسال سے مہنگائی اور بے روزگاری  بھی بڑھتی جارہی ہے ،میں اس وقت  30 لاکھ کا قرض دار ہوچکا ہوں، میرے جو سیٹھ ہیں  وہ بھی اب اپنے پیسوں کا مطالبہ کررہے ہیں  ،  میرے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں ہے نہ ہی پیسے اور نہ ہی زیور  جس کو بیچ کر قرضہ اتارسکوں ،میں بہت پریشان ہوں  سیٹھ نے مجھے فون کیا تھا اور کہا کہ تمھارے پاس  اگر پیسے  نہیں ہیں تو ہم تمھارا قرضہ زکوۃ کے پیسوں سے اتارسکتے ہیں  کیونکہ  ہمارے سیٹھ کے بڑے بھائی    بہت غصہ کر رہے ہیں کہ مجھے کچھ بھی کرکے پیسے دو  تو دوسرے سیٹھ جو ان کے  بھائی ہیں انہوں نے اس مسئلے  میں اپنی جماعت  میں بات کی تو  انہوں نے کہا کہ مجھ پر زکوٰۃ بنتی  ہے  تو آپ زکوٰۃ کے پیسوں سے اپنا قرضہ اتار سکتے ہو ،یہ انہوں نے میری مجبوری دیکھتے ہوئے بات کی ہے، آپ بتائیں جناب کیا میں اپناقرضہ زکوٰۃ کے پیسوں سے اتار سکتا ہوں میرے لیے زکوۃ  لینا جائز ہے  ۔ 

جواب

صورت ِ مسؤلہ میں اگر  قرض کی رقم کو نکالنے کے بعدسائل کی  ملکیت میں ضرورت اصلیہ سے زائد اتنا مال یا اتنا سامان (مثلاً ضرورت سے زائد گھر، زمین، دکان، استعمال سے زائد گاڑی، استعمال سے زائد موبائل، استعمال ہونے والے کپڑوں کے علاوہ کپڑے اور برتن وغیرہ) ہو، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر یا اس سے زیادہ ہو، تو سائل کے لیے مستحقِ زکوۃ نہ ہونے کی وجہ سے زکوۃ لینا جائز نہیں ہے، البتہ اگر ضرورت اصلیہ سے زائد مال یا سامان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہو، تو پھر سائل مستحقِ زکوۃ کہلائے گا، اور اس کو زکوۃ دینا جائز ہوگا۔

حاشیہ ابن عابدین میں ہے :

(و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان كمن له نصاب سائمة لا تساوي مائة درهم۔۔(قوله: فارغ عن حاجته) قال في البدائع: قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي في مختصره فقال: لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن، وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله، فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة، لما روي عن الحسن البصري قالكانوا يعني: الصحابة يعطون من الزكاة لمن يملك عشرة آلاف درهم من السلاح والفرس والدار والخدم، وهذا؛ لأن هذه الأشياء من الحوائج اللازمة التي لا بد للإنسان منهاوذكر في الفتاوى فيمن له حوانيت ودور للغلة لكن غلتها لا تكفيه وعياله أنه فقير ويحل له أخذ الصدقة عند محمد، وعند أبي يوسف لا يحل وكذا لو له كرم لا تكفيه غلته؛۔۔وفيها عن الصغرى له دار يسكنها لكن تزيد على حاجته بأن لا يسكن الكل يحل له أخذ الصدقة في الصحيح وفيها سئل محمد عمن له أرض يزرعها أو حانوت يستغلها أو دار غلتها ثلاث آلاف ولا تكفي لنفقته ونفقة عياله سنة؟ يحل له أخذ الزكاة وإن كانت قيمتها تبلغ ألوفا وعليه الفتوى وعندهما لا يحل اهـ ملخصا)

(باب مصرف الزکوۃ والعشر،ج:2،ص:347،348،ط:دارالفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144303100529
تاریخ اجراء :21-10-2021

فتوی پرنٹ