1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

میراث ،پینشن اور قرض سے متعلق ورثاکی ذمہ داریاں

سوال

1۔ہمارے والد کا انتقال ہوگیاہے21 سال پہلے، ہم پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہیں ، ہمارے والد کا ایک مکان ہے، جس کی قیمت 80 لاکھ ہے اور یہ عمارت 4 منزل پر مشتمل ہے ۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارا  حصہ تقسیم کردیاجائے لیکن ہمارا بھائی ہم سب کو حصہ  دینے کے لیے راضی نہیں ۔اس بلڈنگ کے 2  فلیٹ کرائے پر دیئے ہیں اور ایک میں بھائی خود رہتاہے اور نیچے ایک کارخانہ ہے جو 21 سال سے بھائی کے استعمال میں ہے ، جس کا بھائی کو ئی کرایہ نہیں دیتا اورکمیٹیاں وغیر ہ بھی اپنے استعمال میں لی ہوئی  ہیں ۔

2۔اس کے علاوہ جب بھی بھائی کو ضرورت پڑی تو ہم سب بہنوں نے بھائی  کی مدد کی ، چھوٹی  بہن نے اپناسونے کا سیٹ جو 20 گرام کا تھا بھائی کو ضرورت پڑنے پر دیا جو بھائی نے ادھار کا بول  کر لیا تھا ، دوسرے فلور کی چھت ڈالنے  کے لیے ایک بہن نے ایک لاکھ روپے دیئے آج سے تیرہ سال پہلے ادھار کی صورت میں جو آج تک واپس نہیں کیئے اوروہی بہن ابو کے گھر میں پندرہ سال رہی ہے ، جس کا وقفے وقفے سے کرایہ دیاہے ۔ اس کے بعد تیسرے فلور کی چار دیواری کے لیے  ایک بہن نے اپنے سونے کے  کے بندے  دیئے ، جس میں وہ چھ مہینے رہی ہے ۔

3۔ہمارا بھائی ہم کو اس لیے حصہ نہیں دیتا کہ بھائی نے تین بہنوں کی شادیاں کی ہیں اور ان کا کہناہے  کہ بہنوں کی شادیوں کا خرچہ  ان کے حصہ میں سے کٹے گا   ، جب کہ بھائی کا بہنوں کے ساتھ کوئی معاہد ہ نہیں ہواتھا کہ ہ رقم ان کے حصے میں سے کاٹی جائے گی اور اکیس سال سے کارخانے کا کرایہ تیس لاکھ چوبیس ہزار  بنتاہے بارہ ہزار مہینے کے حساب سے  اور جو دو فلور چھ سال سے کرایہ پرہیں، ان کا کرایہ چودہ لاکھ ہے ہماری ماں کا سونے سیٹ  جو تیس گرام کا تھا بھائی نے بیچ دیاہے اورپیسے اپنے  استعمال میں لے لیے اور کہا کہ امی کو حج کراؤں گا، اب ماں کا انتقال ہوگیاہے ،  حج نہیں کرایا۔

 ہمارے والد نے مرنے سے پہلے کہاتھا کہ اس کا رخانے کو جو بھی چلائے گاوہ اس کا کرایہ ہماری  امی کو دے گا ،لیکن بھائی نے آج تک کوئی کرایہ نہیں دیا ۔

5۔ 21 سال سے پینشن آتی رہی، اس کو    اپنے استعمال میں لیا  ہوا ہے۔ رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

سوالات کے جوابات نمبر وار ملاحظہ ہو ں ۔

1-  سائلہ کے بھائی کا والد کی جائیداد  پر قبضہ کرکے بہنوں کو ان کے حصے سے محروم کرناشرعًاجائز نہیں ، بھائی نے والد کی  جائید اد میں سے  کارخانہ  اور فلیٹوں کا جو  کرایہ یا کمیٹیاں  وصول کی ہے،  اسی طرح والدہ  کے سونے کا سیٹ بیچ کر جو روپیہ وصول کیاہے  ،یہ سائلہ کے بھائی کے ذمے قرض ہیں ،جو کہ تمام  ورثاء کو اداکرناضروری ہے ،نیزبھائی نے والد ین  کی  جائید اد میں تصرف کرکے جو کچھ اضافہ کیاہے،اوراثاثے بنائےہیں وہ  تمام اثاثے  والدین مرحومین کی وراثت ہیں ، جو موجودہ مارکیٹ ویلیوکے اعتبار سے تمام ورثاء  میں  ان کے شرعی حصوں کے بقد ر تقسیم ہوگا۔ ان کو  تقسیم نہ کرنا  یا وارثوں کے حق پر ناحق  قبضہ کرنا بدترین گناہ ہے۔

2۔ بھائی نے بہنوں سے جو قرض لیاہے، ایک بہن سے سونے کا سیٹ لیاہے ، ایک بہن سے سونے کے بندے لیے اور ایک بہن سے ایک لاکھ روپے لیے ہیں، یہ سب قرض  ان کے ذمے  ہے،جو بہنوں کو ادا کرناہوگا۔

3-بھائی نے بہنوں کی شادی میں جورقم  خرچ کی تھی،  چوں کہ اس  سے متعلق ان  بہنوں سے ایسی  کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی کہ یہ خرچہ  تمہارے حصے سے منہا ہوگا،اس لیے اب  شادی کے مذکورہ اخراجات ان بہنوں کے حصے سے منہانہیں کیے جائیں گے، باقی اگر بھائی نے دیگر ورثاء کی رضامندی سے خرچ کی تھی تو اس رقم کو  ان ورثاء کے حصوں سے منہاکیا جائے گا ، اگربھائی نے دیگر  ورثاء کی رضامندی  کے بغیر خرچ کی تھی تو  پھر اس کو صرف بھائی کے حصے سے منہاکیاجائے گا،دیگرورثاء کے حصے سے منہاکرنے کا جواز نہیں ہوگا۔

4۔نیز والد نے مرنے سے پہلے جو یہ کہاتھا کہ کارخانہ جو بھی چلائے گا، وہ اس کا کرایہ میری   اہلیہ کو دے گا، چوں کہ اہلیہ ان کی شرعی وارث ہے اور وارث کے حق میں وصیت شرعًا معتبراور  نافذالعمل نہیں ہوتی  ، اس لیے اہلیہ  مذکورہ کرایہ کی  حق دار نہیں بنی،  بلکہ  صرف اپنے حصے کی حق دار تھی الا یہ کہ مرحوم والد کے دیگر  تمام عاقل بالغ ورثاء  والد ہ کے حق میں کی گئی اس وصیت پر  عمل کرنے کے لیے راضی ہوں تو  اس وصیت پر عمل کرنا جائز ہوگا۔

5۔پینشن کی جو رقم آتی ہے ،اس کا حکم یہ ہے کہ  جس کے  نام پر آتی ہے وہ اسی کا حق ہے ،دیگر ورثاء کا اس کا مطالبہ کرناشرعًا درست  نہیں ۔

6۔اس تفصیل کے بعد مرحوم کے ترکے کی تقسیم  کا شرعی طریقہ یہ  ہے کہ سب سے پہلے   مرحوم  کے حقوقِ متقدّمہ یعنی تجہیز وتکفین  کا خرچہ نکالنے کے بعد  اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ  سے ادا کرنے کے بعداور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی  میں سے نافذ کرنے کے بعدباقی  کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 7حصوں میں تقسیم کرکے  بیٹے کودو حصے،اور ہر ایک بیٹی کو  ایک ،ایک حصہ ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت7

بیٹا بیٹیبیٹی بیٹی بیٹی بیٹی 
211111

یعنی 100روپے میں سے مرحوم کےبیٹے  کو28.571روپے،   مرحوم  کی ہر ایک بیٹیکو14.285 روپے   ملیں گے ۔

شرح المجلۃ   میں ہے:

"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي،و إن أخذ و لو علی ظنّ أنه ملكه وجب علیه ردّہ عینًا إن کان قائمًا و إلا فیضمن قیمته إن کان قیمیًّا."

(المقالۃ الثانیۃ فی بیان القواعد الکلیۃ الفقہیۃ 1/51 مادۃ 97 ط:رشدیہ)

دار  قطنی میں ہے:

"عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:  «لايحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه»."

(كتاب البيوع3/224ط:مؤسسة الرسالة، بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"الشركة في الأصل نوعان: شركة الأملاك، وشركة العقود وشركة الأملاك نوعان: نوع يثبت بفعل الشريكين، ونوع يثبت بغير فعلهما.

(أما) الذي يثبت بفعلهما فنحو أن يشتريا شيئا، أو يوهب لهما، أو يوصى لهما، أو يتصدق عليهما، فيقبلا فيصير المشترى والموهوب والموصى به والمتصدق به مشتركا بينهما شركة ملك.

(وأما) الذي يثبت بغير فعلهما فالميراث بأن ورثا شيئًا فيكون الموروث مشتركًا بينهما شركة ملك."

(کتاب الشرکۃ ،انواع الشرکۃ6/56ط:سعید)

وفیه أیضًا:

"فأما شركة الأملاك فحكمها في النوعين جميعًا واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لايجوز له التصرف فيه بغير إذنه لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية ولا لكل واحد منهما في نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة؛ ولم يوجد شيء من ذلك وسواء كانت الشركة في العين أو الدين لما قلنا."

(کتاب الشرکۃ ،فصل فی حکم الشرکۃ، 6/65 ط: سعید) 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية."

(کتاب الوصایا،ج:۶،ص:۹۰،ط:دارالفکر)

وفیه أیضًا:

"و لاتجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."

(کتاب الوصایا،ج:۶،ص:۹۰،ط:دار الفکر)

فتاوی تنقیح الحامدیہ میں ہے:

"المتبرع لايرجع بما تبرع به على غيره."

(كتاب المداينات2/266 ط:  دار المعرفة) 

امداد الفتاوی میں ہے:

’’چوں کہ میراث مملوکہ اَموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع و احسان سرکار ہے ، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا ، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث   جاری نہیں ہوگی سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے تقسیم کر دے ۔‘‘

(کتاب الفرائض،ج:4،ص342،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

  فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144303100510
تاریخ اجراء :21-10-2021

فتوی پرنٹ