1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق کو معلق کرنا

اگر میں تمہارے ساتھ حیض کے دنوں میں ملا تو تجھے طلاق ہے کا حکم

سوال

میرے شوہر میرے ساتھ  ایام حیض میں جنسی تعلق قائم کرتے تھے ،میں منع کرتی تھی  تو ایک دن اس نے بولا کہ "اگر میں تمہارے ساتھ حیض کے دنوں میں ملا تو تجھے طلاق ہے "  یہ الفاظ اس نے پندرہ سال پہلے دو دفعہ ادا کیے تھے ،پھر اس نے مجھ سے حیض کے دنوں میں جسمانی صحبت قائم کی ،اس کے بعد ہم دونوں  ایک ساتھ رہتے  رہیں اور اس دوران  ہم دونوں کا جنسی تعلق بھی  قائم ہواتھاعدت کے اندر (یعنی شوہر نے عدت کے اندر رجوع کرلیا تھا)،پھر تقریباً آج سے اڑھائی سال قبل  وہ سعودیہ جارہے تھے تو میں نے ان کو بولا کہ ٰآپ  نہ جائیں (گھریلو حالات کی وجہ سے)تو اس نے بولا کہ "اگر میں سعودیہ گیا تو تجھے طلاق ہے"یہ الفاظ  بھی دو دفعہ بولے  تھے  ،پھر اس کے بعد وہ سعودیہ چلا گیا ،نیز تقریباً  بیس دن قبل میرے شوہر نے میرے بھائی کو فون کرکے کہا تھا کہ "میں  نے آپ کی بہن کو پندرہ سال قبل بھی دو دفعہ مذکورہ بالا جملے  بولے تھے اور اڑھائی سال قبل بھی یعنی وہ خود اس کا اقرار کررہا ہے ،اب دریافت یہ کرنا ہے کہ طلاق ہوگئی ہے یا نہیں اوراگر ہوگئی ہے تو کتنی ہوئیں ہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے پندرہ سال پہلے  سائلہ  سے  دو دفعہ یہ کہا  تھاکہ"اگر میں تمہارے ساتھ حیض  کے دنوں میں ملا تو  تجھے طلاق ہے "اور پھر سائلہ کے ساتھ حیض کے دنوں میں  جسمانی  صحبت قائم کی تھی  تو اس سے سائلہ  پر  دو  طلاقیں واقع ہوگئیں تھیں ،پھرجب عدت کے دوران دونوں میں جسمانی صحبت قائم ہوئی تھی تو اس سے رجوع ہوگیا تھا اور سائلہ کے شوہر کے پاس مزید صرف ایک طلاق کا اختیار تھا،  اس کے بعد جب سائلہ نے اس سے سعودیہ نہ جانے کا مطالبہ کیا  تو اس نے دو دفعہ یہ  کہا کہ" اگر میں گیا  سعودیہ تو تجھے طلاق ہے  "اور پھر سعودی چلاگیا تو اس سے سائلہ پر مزید ایک طلاق  واقع ہوگئی  اور باقی ایک طلاق  محل نہ  ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی،لہٰذا مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوجانے کے بعد سائلہ اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے ،اب رجوع جائز نہیں اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔

ہندیہ میں ہے:

إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق وكذا إذا قال: إذا أو متى وسواء خص مصرا أو قبيلة أو وقتا أو لم يخص وإذا أضافه إلى الشرط وقع ‌عقيب ‌الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق

(کتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه،الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمۃ إن وإذا وغيرهما،ج1،ص420،ط:دارالفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة

(کتاب الطلاق ،فصل فی حکم الطلاق البائن ،ج3،ص187،ط:سعید)

            ہندیہ میں ہے:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية

(کتابالطلاق،البابالسادس  فی الرجعۃوفیما تحل بہ،فصل  فیما تحل بہ المطلقۃ وما  یتصل بہ،ج1،ص473،ط:دارالفکر)

 فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144303100106
تاریخ اجراء :11-10-2021

فتوی پرنٹ