1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

مکانوں کے کرایہ اور مال تجارت پر زکوۃ کا حکم

سوال

1)مکانوں کا کرایہ جو وصول ہوتا ہے جس کو مالکِ مکان اپنے روز مرہ کے اخراجات میں صرف کرلیتا ہے ، اس پر شرعاً زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟ اگر ہوگی تو کتنی ؟

2)کرایہ کے مکانوں کی مالیت پر بھی زکوۃ ہو گی یا نہیں ؟اگر ہوگی تو کتنی ؟

3)جو پلاٹ ملکیت میں تو ہیں  لیکن اس پر قبضہ نہیں ہے بلڈرز یا سوسائٹئ کے حکام کے قبضے میں ہیں ان پلاٹ کی زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟

4)جو پلاٹ ملکیت میں بھی ہیں اور قبضہ بھی ہے ان پر زکوۃ ہوگی یا نہیں ؟ اگر ہوگی تو کتنی ؟

5)جو گاڑیاں خرید و فروخت کے لیے خریدی ہیں ان پر کتنی زکوۃ واجب ہوگی ؟

جواب

استفتا کئی  سوالات  پر مشتمل ہے، ہر سوال کا جواب نمبر وار درج ذیل ہے۔

1)مکانوں کے کرایہ کی مد   میں جو رقم آتی ہے،  اگر وہ رقم  زکوۃ کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ) سے کم ہو  اور اس کے پاس  اس کی حاجتِ اصلیہ سے زائد کوئی  دوسرا مالِ نامی ( مثلاً سونا، چاندی، نقد یا مال تجارت )  بھی نہ ہو کہ جس کے ملانے سے نصاب پورا ہو  جاتا ہو یا  نصاب تو پورا  ہو لیکن کرایہ کی ساری رقم اخراجات میں صرف  ہوجاتی ہو  اور سال پورا ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی ہو  تو اس صورت میں کرایہ کی رقم پر شرعاً  زکوۃ واجب  نہیں ہوگی، لیکن اگر کرایہ کی  رقم  نصاب کے برابر ہو یا حاجتِ اصلیہ سے زائد اس کا کوئی دوسرا مالِ نامی  ملانے سے نصاب مکمل ہوجائے اور زکوۃ ادا کرنے کی تاریخ میں بھی وہ رقم موجود ہو   تو اس صورت میں کرایہ کی رقم پر زکوۃ واجب ہوگی اور کل رقم کا اڑھائی فیصد حصہ زکوۃ کی مد میں ادا کرنا ضروری ہوگا۔

2)جو مکانات کرایہ پر دیے ہوئے ہیں،  ان کے کرایہ پر تو سابقہ تفصیل کے مطابق زکوۃ لازم ہوگی لیکن ان مکانات کی مالیت پر زکوۃ لازم نہیں ہے۔

3) جو پلاٹ سائل نے بلڈرز سے خریدے ہیں،  اگرچہ سائل کا ان پلاٹوں پر ابھی تک قبضہ نہیں ہوا  لیکن چوں کہ ملکیت سائل ہی کی ہے،  اس لیے اگر تجارت کی نیت سے خریدے ہیں تو  سال مکمل ہونے کے بعد ان کی مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے ان کی زکوۃ ادا کرنا سائل پر شرعاً ضروری ہوگا اور اگر  تجارت کی نیت سے نہیں خریدے تو اس صورت میں ان پلاٹوں پر زکوۃ نہیں ہوگی۔

4) اگرمذکورہ پلاٹ  فروخت کرنے کی نیت سے نہیں خریدے  توان    پر زکوۃ واجب نہیں اور اگر فروخت کرنے کی نیت سے خریدے ہیں تو اس صورت میں زکوۃ ادا کرنے کی تاریخ آنے پر  مذکورہ پلاٹوں  کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے   زکوۃ واجب ہوگی یعنی زکوۃ ادا کرنے کی تاریخ آنے پر مذکورہ پلاٹوں   کی قیمتِ فروخت معلوم کرکے اس کا اڑھائی فیصد  حصہ زکوۃ کی مد میں ادا کرنا ضروری ہوگا۔

5) جو گاڑیاں تجارت کی نیت سے خریدی ہیں،  زکوۃ کی ادائیگی کی تاریخ آنے پر ان  کی مارکیٹ ویلیو معلوم کرکے اس کا اڑھائی فیصد  حصہ زکوۃ کی مد میں ادا کرنا لازم ہوگا۔

در مختار میں ہے:

"(و شرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض."

(رد المحتار على الدر المختار کتاب الزکوۃ جلد 2 صفحہ:267 ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی قاضی خان میں ہے:

"إذا آجر دارہ أو عبدہ بمائتی درهم لاتجب الزکوۃ ما لم یحل الحول بعد القبض في قول أبي حنیفة فإن کانت الدار و العبد للتجارۃ و قبض أربعین درهمًا بعد الحول کان علیه درهم بحکم الحول الماضي قبل القبض لأن أجرۃ دار التجارۃ و عبد التجارۃ بمنزلة ثمن مال التجارۃ في الصحیح من الروایة."

(الفتاوی الخانیة بھامش الفتاوی الهندیة، جلد1 ،کتاب الزکوۃ، فصل في مال التجارۃ، ط: مکتبة رشیدیة)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

«رجل اشترى عبدًا للتجارة يساوي مائتي درهم بمائتين و نقد الثمن، و لم يقبض العبد حتى حال الحول فمات العبد عند البائع كان على البائع زكاة المائتين، و كذلك على المشتري، و إن كانت قيمة العبد مائة كان على البائع زكاة المائتين، و لا زكاة على المشتري»

«الفتاوى الهندية» (١/ 182)

امدادالفتاوی میں ہے:

’’پس مواضع اگر واسطے تجارت کے ہیں تو بعد حولان حول ان کی قیمت و منافع پر زکوۃ لازم ہوگی ۔ اور اگر اجارہ کے لیے ہیں یا اپنے مصارف کے لیے ہیں پس خود ان میں تو زکوۃ واجب نہیں ۔۔۔اور ایسے  ہی  اگر منافع یا کرایہ جنس غلات سے ہو،  البتہ اگر زر کرایہ یا منافع نقود میں سے ہو اور اس پر سال بھر گزر جاوے اس میں زکوۃ واجب ہے۔‘‘

(امدادالفتاوی، جلد2 ،کتاب الزکوۃ و الصدقات،  صفحہ:54 ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی )

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144303100244
تاریخ اجراء :14-10-2021

فتوی پرنٹ