1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

بروکری لینا جائز ہے

سوال

ایک شخص بروکر کے طور پر پلاٹوں کا کاروبار کرتا ہے ،صورت یہ ہوتی ہے کہ زید کی ملکیت میں ایک پلاٹ ہے  ،زید بروکر سے کہتا ہے کہ آپ اس پلاٹ کے لیے کوئی گاہگ تلاش کرو ،اب بروکر نے گاہگ تلاش کیا اور بائع اور مشتری کے درمیان معاملہ طے ہو جاتا ہے ،اب بروکر عرف کے اعتبار سے بائع اور مشتری سے کچھ کچھ رقم لیتا ہے ،مثلا ایک لاکھ روپے میں بروکر دونوں سے ایک  ایک ہزار روپے لیتا ہے ،تو اب بروکر کے لیے یہ رقم لینا صحیح ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ مکانات وغیرہ کی خرید و فرخت میں بروکر کے  بروکری کی اجرت لینا شرعا جائز ہے ،بشرطیکہ جس کام پر بروکری اور کمیشن لی جارہی ہو وہ کام فی نفسہ جائز ہو یعنی معاملہ غیر شرعی نہ ہو اوربروکر کسی معاملہ میں خود خریدار یا فروخت کنندہ نہ ہو ورنہ بروکری  جائز نہیں ہوگی  اور بروکری یعنی اجرت متعین ہو مجہول نہ ہو اور اجرت کا تعین یا تو شرح فیصد کے اعتبار سے ہو مثلا ایک فیصد یا دو فیصد اجرت طے ہو جائے یا لم سم رقم کے اعتبار سے اجرت متعین ہو جائے کہ بروکری پر اتنی طے شدہ رقم ملے گی نیز  اگر بروکر ایک طرف کا نمائندہ ہو تو ایک طرف سے اجرت کا مستحق ہو گا اور اگر وہ جانبین کا نمائندہ ہو تو جانبین سے اجرت لینا جائز ہوگا ،خواہ اجرت طے کردہ  متعین رقم ہو یا فیصد کے اعتبار سے ہو(جیسا کہ ما قبل میں گذرا)۔

فتاوی شامی میں ہے:

           وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام

(كتاب الاجارة باب الاجارة الفاسدة ج:6   /ص:63  /ط:سعید)

الدر المختار میں ہے:

وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة

(کتاب الاجارۃ،ج:6،ص:5،ط:سعید)

فقط وللہ اعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144303100058
تاریخ اجراء :10-10-2021

فتوی پرنٹ