1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

والدہ اور بھائی بہنوں کے درمیان میراث تقسیم کرنے کی ایک صورت

سوال

ایک شخص کا انتقال  ہوا ، ورثاء میں والدہ ، دوبھائی اور پانچ بہنیں  ہیں،شادی ہوئی تھی  ، لیکن بیوی کوطلاق دے تھی اور ان سے کوئی اولاد نہیں۔ نیز والد کاانتقال بھی مرحوم سے پہلے ہوا ۔

اب ان کاترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مرحوم کی میراث اس کے ورثاء میں تقسیم کرنے  کاشرعی طریقہ یہ ہےکہ سب سے پہلے مرحوم کے کل ترکہ سے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین  کا خرچہ نکالنے کے بعداگر مرحوم کے ذمہ کسی کا  قرض  ہو تو اس  کی ادائیگی کے بعد اگرمرحوم نے کوئی جائزوصیت کی ہو تو  باقی ترکہ  کے ایک تہائی مال میں اس کو نافذ کرنے کے بعد باقی کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو 54 حصے بنا کروالدہ کو9 حصے ،ہر ایک بھائی کو10حصے اور ہر ایک بہن کو5حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت54/6

والدہبھائی بھائیبہنبہنبہنبہنبہن
15
9101055555

یعنی 100روپے میں سے  والدہ کو16.666روپے،ہر ایک بھائی کو18.518روپے اور ہر ایک بہن کو9.259روپے ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144303100609
تاریخ اجراء :23-10-2021

فتوی پرنٹ