1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

مکرہ کا طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

سوال

میری دوسری شادی کے بعد دوسری بیوی کا اصرار تھا کہ اپنی پہلی بیوی کو طلا ق دو، میں بہت منع کرتارہا۔لیکن دوسری بیوی کے اکثر خاندان والے پولیس میں ہیں، اس لیے وہ مجھے دھمکی دے رہی تھی کہ میں تجھے مار دوں گی یا پہلی بیوی کو طلاق دے دو،اسی طرح ایک دن اس نے پولیس کے ساتھ دو بندوں کو بھیجا اور میرے اوپر گن رکھی کہ اس طلاق نامہ پر دستخط کردو،(طلاق نامہ منسلک ہے) ورنہ تجھےجان سے مار دیں گے۔ میں نےقتل کے خوف سے اس پر دستخط کردیے لیکن اللہ گواہ ہے میں اس پر بالکل راضی نہیں تھا اور نہ میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتاتھا۔

کیا اس سے طلاق واقع ہوئی ہے یانہیں؟میرا اور میری پہلی بیوی کا رشتہ برقرار ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگرسائل کابیان حقیقت پرمبنی ہے کہ سائل کے اوپردوسری  بیوی کے بھیجے ہوئے لوگوں نے گن رکھی تھی اوریہ دھمکی دی تھی کہ " اگردستخط نہیں کروگے تو ہم تمہیں جان سے ماردیں گے"اور حقیقت میں وہ اپنی اس  دھمکی پرعمل کرنے پر قادربھی تھے، اور سائل نے جان بچانے کی خاطر منسلکہ طلاق نامہ پر دستخط کیے تو اگرسائل نے طلاق نامہ میں مذکورہ الفاظ زبان سے ادانہیں کیے،صرف اس پر دستخط کیےہیں تو اس سےسائل کی بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،سائل کا نکاح اب تک برقرار ہے،سائل اپنی پہلی بیوی کےساتھ رہ سکتا ہے۔

            اوراگرسائل نے طلاق کے الفاظ زبان سے بھی اداکیے تھے،تو سائل کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوگیئ ہیں،سائل کی بیوی سائل پرحرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،نکاح ختم ہوچکاہے۔اس صورت میں سائل کی  پہلی بیوی اپنی عدت گزارکردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

فتاوى ہندیہ مىں ہے:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان.

(الفصل السادس في الطلاق بالكتابة/ج:1/ص:379۔ط:رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

               وفي البحر أن المراد ‌الإكراه ‌على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا۔

(کتاب الطلاق،رکن الطلاق/ج:3/ص:236/ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144303100478
تاریخ اجراء :20-10-2021

فتوی پرنٹ