1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق - وقوع اور عدم وقوع

شوہر طلاق کا منکر ہے(تحکیم کا مشورہ)

سوال

میری بہن نے جامعۃ العلوم  الاسلامیہ  بنوری ٹاؤن سے فتوی لیا، جس میں اس  نے غلط بیانی سے کام لیا کہ  میرے شوہر  نے  مجھے تین طلاق دی ہیں ،حلاں کہ شوہر  اس بات کی قسم اٹھانے کو تیار ہے کہ  میں نے کوئی طلاق نہیں دی ہے اور میں اپنے بہنوئی  کا ساتھ اس وجہ سے دے رہی ہوں کہ  میری بہن کو پتہ  نہیں کس نے بہکایا ہے،  ہماری عزت کا مسئلہ ہے  ، ہم چاہتے ہیں کہ شریعت کے مطابق  فیصلہ ہوجائے۔

نوٹ:لڑکی کا شوہر بھی ساتھ آیا تھا  اور اس کا بھی یہی بیان ہے کہ  میں نے کبھی اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے  ،بیوی نے جو فتوی لیا ہے وہ سب غلط بیانی ہے۔

            اس مسئلہ کا حل شریعت کی روشنی میں بتادیں۔ لڑکی نے جو فتوی لیا ہے  وہ بھی  منسلک ہے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ سائلہ کی بہن اور اس کے شوہر کے درمیان  طلاق  دینے اور نہ دینے کے بارے میں اختلاف ہے   ،سائلہ کی بہن تین طلاق کا دعوی  کر رہی ہے  اور سائلہ کا بہنوئی اس کا انکار کر رہا ہے ،لہٰذا  فریقین (میاں بیوی) کو چاہیے کہ اس مسئلے  کو حل کرنے کے لیے کسی مستند  مفتی یا عالمِ دین کو حکم(فیصل) بنائیں اور وہ  شریعت کے مطابق جو فیصلہ دیں دونوں فریق اس پر عمل کریں۔

وفي الفتاوى الهندية:

و يصح ‌التحكيم فيما يملكان فعل ذلك بأنفسهما و هو حقوق العباد و لا يصح فيما لا يملكان فعل ذلك بأنفسهما، و هو حقوق الله تعالى حتى يجوز ‌التحكيم في الأموال والطلاق والعتاق والنكاح والقصاص وتضمين السرقة ولا يجوز في حد الزنا والسرقة والقذف۔

  (كتاب ادب القاضی،الباب الرابع و العشرون فی التحکیم/3/ 397ط:رشیدیہ)

وفيه أيضا:

و حكم هذا ‌الحكم يفارق حكم القاضي المولى من حيث إن حكم هذا ‌الحكم إنما ينفذ في حق الخصمين و من رضي بحكمه، و لا يتعدى إلى من لم يرض بحكمه بخلاف القاضي المولى، كذا في الملتقط

 (كتاب ادب القاضی،الباب الرابع و العشرون فی التحکیم/3/ 397ط:رشیدیہ)

فقط و اللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144303100412
تاریخ اجراء :18-10-2021

فتوی پرنٹ