1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

عدالتی یک طرفہ خلع شرعاً معتبر نہیں

سوال

میرے بیٹے کی بیوی نے کورٹ سے خلع لیا ہے، کورٹ میں نہ میرا بیٹا حاضر ہوا ہے اور  نہ میں حاضر ہوا ہوں اور نہ  میرے بیٹے نے خلع پر رضامندی ظاہر کی ہے، بیٹا میرا دوبئی میں ہے، تو آیا میرے بیٹے کی بیوی اس کے نکاح میں ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ خلع ایک شرعی معاملہ ہے جو شریعتِ مطہرہ کےضابطے کے مطابق دیگر شرعی معاملات کی طرح ایجاب و قبول کے ذریعہ باہمی رضا مندی سےانجام پاتا ہے  ،کسی ایک فریق کے راضی نہ ہونے سے شرعاً خلع معتبر نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ میں سائل کا بیٹا چونکہ خلع پر آمادہ نہیں تھا،  اور نہ ہی وہ کورٹ میں حاضر ہوا ہے، اس لئے عدالت کی طرف سے یکطرفہ خلع کا جو فیصلہ آیا ہے، اس کا شرعاً اعتبار نہیں، دونوں کا نکاح برقرار ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

و اما رکنہ فھو کما فی البدائع: اذا کان بعوض الایجاب و القبول، لانہ عقد علی الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقۃ و لا یستحق العوض بدون القبول.                                                                       

(ج: 3، ص:441، باب الخلع، ط:سعید)

فقط و اللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144303100432
تاریخ اجراء :19-10-2021

فتوی پرنٹ