1. دار الافتاء دار العلوم کراچی
  2. فتاوی

میت کے ورثہ میں اگر صرف بھتیجے اور بھتیجیاں ہوں تو وارث کون بنے گا؟،مرحومہ کے الفاظ کہ بھتیجیوں کا کچھ نہ کچھ خیال رکھاجائے تو کیا یہ ان کی طرف سے وصیت ہوگی؟،مرحومہ کے علاج ومعالجہ کے اخراجات ان کے ترکہ سے منہا کیے جائیں گے یا نہیں؟،مرحومہ کے قرض میں اگر ورثہ اور قرض داروں کا اختلاف ہوتو معاملہ کا تصفیہ کیسے ہوگا؟


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم کراچی
فتوی نمبر :30/2007


PDF ڈاؤن لوڈ