1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. شیئرز و سرمایہ کاری

(پے ٹی ایم گولڈ) کا استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ 

سوال

سوال : کیا Paytm gold (پے ٹی ایم گولڈ ) کا استعمال اسلام میں جائز ہے ؟ ۱ اسمِ ۱ روپیہ کا سونا بھی خریدا کا سکتا ہے ۲ خریدنے پر فوراً خریدنے والے کے نام پر بل جنریٹ ہو جاتا ہے ۳ اسے بیچا بھی جا سکتا ہے ۴ خریدا ہو سونا کو آرڈر دینے پر میکینک چارج کے ساتھ سکّے کے روپ میں گھر تک ڈیلیوری کیا جاتا ہے ، ۵ خریدے گئے سونے کو کسی رشتے دار کے اکاؤنٹ میں ہدیے کے طور پر ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے ، کیا اسمِ گولڈ خریدنے اور بیچنا جائز ہے؟

جواب

Fatwa : 708-588/B=06/1443

 صورت مسئولہ میں حکم شرعی کا مدار اس پر ہے کہ پے ٹی ایم گولڈ کے توسط سے سونا خریدنے کے بعد اگر مشتری اس پر شرعاً قابض ہوجائے، اس طرح کہ وہ سونا اپنے قبضہ اور تحویل میں اس طور پر لے لے کہ جب چاہے اسے اپنے استعمال میں لاسکے، یا آگے فروخت کرسکے تو اس کا استعمال جائز ہے، نیز خرید وفروخت بھی درست ہے، اور اگر مذکورہ طریقہ پر قبضہ نہیں پایا جاتا ہے تو پھر اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔ ثم التسلیم یکون بالتخلیة علی وجہ یتمکن من القبض بلا مانع ولا حائل ․․․․․ بأن یکون مفرزاً غیر مشغول بحق غیرہ۔ (درمختار مع الشامی: 7/94، ط: زکریا دیوبند)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :608882
تاریخ اجراء :18-Jan-2022

فتوی پرنٹ