1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

پی ایف سے متعلق مختلف سوالات

سوال

میں ایک سرکاری ملازم ہوں ۔ سرکار کی طرف سے میرا GPF اکاؤنٹ جاری ہے جس میں ہر ماہ سرکار کی طرف سے تنخواہ کی 10 فی صد رقم لازمی طور پر کاٹی جاتی ہے۔ اگر میں اپنی مرضی سے 10 فی صد سے زیادہ رقم GPF میں کٹواتا ہوں تو مجھے انکم ٹیکس میں کچھ راحت ملتی ہے اور کٹوائی ہوئی زائد رقم پر بھی سرکار کی طرف سے سود ملتا ہے۔ نیز میں ہر سال انکم ٹیکس ادا کرتا ہوں جس کی مقررہ رقم میری تنخواہ میں سے ہر ماہ کاٹی جاتی ہے۔ اس سے متعلق ذیل کے سوالات کا برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں جواب مطلوب ہے ۔

جواب

Fatwa: 812-433/TB-Mulhaqa=8/1443

 (1‏‏،2‏،3)انكم ٹیكس بچانے كے مقصد سے آپ اپنی مرضی سے پی ایف كٹوا سكتے ہیں‏، اپنی مرضی سے كٹوانے پر جو سود ملے‏، اس كے بارے میں احتیاط یہ ہے كہ اسے ذاتی استعمال میں نہ لائیں۔(دیكھیں: جواہر الفقہ 3/278‏،ط: زكریا‏،دیوبند‏، فتاوی عثمانی3/278‏،ط: كراچی) ؛ ہاں اسے انكم ٹیكس میں دے سكتے ہیں‏۔

(4) كر سكتے ہیں‏، گنجائش ہے۔

(5)اصول كا تقاضا تو یہی ہے كہ پی ایف پر زكات واجب نہیں ہے‏، نہ اس وقت اور نہ ہی وصولیابی كے بعد سنین ماضیہ كی؛ جب ملكیت میں آجائے‏، اس وقت سے حسب ضابطہ اس پر زكات واجب ہوگی؛ باقی اگر كوئی شخص احتیاطا ‏، زكات شروع سے ادا كرتا رہے یا وصولیابی كے بعد سنین ماضیہ كی زكات ادا كردے تو یہ بہتر ہے۔حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ؒ نے جواہر الفقہ (3/275‏، مطبوعہ: كراچی‏،جدید)میں حضرت اقدس تھانویؒ كے مشورے سے بہ عنوان ’’تنبیہ‘‘ احتیاط والی بات تحریر فرمائی ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :610670
تاریخ اجراء :27-Mar-2022

فتوی پرنٹ