1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

بینك میں سودی رقم كے بقدر غریب كو دے كر سودی رقم كا استعمال 

سوال

سوال : سیونگ اکاؤنٹ میں جو سود کی رقم بڑھتی ہے اس کو نکالے بغیر اپنی جیب سے اُتنی رقم قریب کو دے دیں تو کیا وہ بینک میں سود والی رقم حلال ہو جائے گی؟

جواب

Fatwa: 1123-786/H=08/1443

 بہتر تو یہی ہے كہ بینك میں سے سودی رقم نكال كر غرباء كو دیں تاہم اگر اس سودی رقم كے بقدر اپنے پاس سے رقم غرباء كو دیدیں اور پھر بینك سے نكال كر اپنے استعمال میں لے لیں تو گنجائش اس كی بھی ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :610597
تاریخ اجراء :24-Mar-2022

فتوی پرنٹ