1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. دیگر معاملات

غیر حاضری یا دیر حاضری کی تنخواہ اور اس کی تلافی وغیرہ سے متعلق چند سوالات

سوال

غیر حاضری یا دیر حاضری کی تنخواہ اور اس کی تلافی وغیرہ سے متعلق چند سوالات

جواب

Fatwa:384-72/TH-Mulhaqa=6/1443

 (۱- ۴): صورت مسئولہ میں ضابطہ کی بات تو یہ ہے کہ آپ نے دوران ملازمت، ڈیوٹی کے اوقات میں عرفاً ناقابل انگیز جتنی دیر حاضری یا غیر حاضری کی ہے، اس کے بہ قدر اپنی تنخواہ کا حصہ اصل ذمے دار (مالک) کو واپس کریں اور آپ نے نگراں کے کہنے پر خارج اوقات میں جو مزید کام کام کیا ہے، اس کا معاوضہ وصول کریں، اور اگر آپ نگراں کی اجازت سے مقاصہ (ادلا بدلی)کرلیں تو دیانتاً اس کی بھی گنجائش ہوگی، یعنی: اگر آپ نے نگراں کے کہنے پر دیر حاضری اور غیر حاضری کی مجموعی مقدار کے بہ قدر اپنا ذاتی وقت صرف کرکے خارج میں کام کردیا ہے اور منصوبے کا جو کام آپ کے ذمے تھا، وہ بغیر کسی نقص وکمی کے مکمل ہوگیا ہے تو اس صورت میں آپ کی پوری تنخواہ جائز ہوجائے گی، اور اگر آپ نے خارج اوقات میں کم وقت صرف کیا ہے تو آپ اپنی مابقیہ دیر حاضری وغیر حاضری کی مقدار کے بہ قدر تنخواہ کا حصہنگراں کو اس طور پر واپس کردیں کہ وہ آفس کے لیے کوئی ضرورت کا سامان خریدے یا آفس کی ضروریات میں صرف کردے یا اصل ذمے دار کو پہنچادے، اور اگر نگراں واپس لینے کے لیے تیار نہ ہو اور اصل مالک تک پیسہ پہنچانے کی بھی کوئی صورت نہ ہو تو آپ وہ پیسہ بلا نیت ثواب (بلا عوض) غریبوں کو دیدیں ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :609078
تاریخ اجراء :23-Jan-2022

فتوی پرنٹ