1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. وراثت ووصیت

بغیر قبضہ كے ہبہ وغیرہ كا حكم

سوال

الاستفتاء، کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں راہنمائی فرما ئیں: ہم تین بھائی اور دو بہنیں ہیں ،میرے والدِ محترم ملازم پیشہ تھے دورانِ ملازمت انہوں نے راولپنڈی میں دس مرلہ پلاٹ خریدا اور اس پر ایک مکان تعمیر کیا ۔ اور ایک عدد پلاٹ خرید کر والدہ محترمہ کے نام ٹرانسفر کر دیا۔جب مذکورہ مکان کی تعمیر مکمل ہو گئی تومیرے بڑے بھائی کے مشورہ پر والد صاحب نے مذکورہ مکان اور والدہ صاحبہ کا پلاٹ فروخت کیا اور )فروخت شدہ مکان اور پلاٹ سے حاصل شدہ رقم کے ساتھ دیگر جمع شدہ رقم بھی شامل تھی سب کو ملا کر( اسلام آباد میں ایک کنال رقبہ کا پلاٹ خریدا اور نیا مکان تعمیر کیا تمام رقم اس نئے مکان کی تعمیر پر صرف کر دی۔والد صاحب نے مذکورہ مکان کی رجسٹری تین بھائیوں کے نام بحصۂ برابر کر دی ۔ اب والدِ محترم کا 21 جنوری 2022 کو انتقال ہو چکا ہے۔ تین بھائیوں میں سے ایک بھائی والدہ کے ساتھ اسی مکان میں رہائش پذیر ہ ے ۔دوسرا بھائی جرمنی میں رہائش پذیر ہے جو کبھی کبھار فیملی کے ساتھ پاکستان آتاہے اور اسی گھر میں چند دن قیام کر کے واپس چلا جاتا ہے۔جب کہ تیسرا بھائی ) بڑا بھائی(اپنی فیملی کے ہمراہ علیٰحدہ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہے۔ گھر میں استعمال کے تین سے چار کمرے جو کامن استعمال می ں ہیں ۔تین بھائیوں کے نام رجسٹری ہونے کے باوجود کسی طرح کی کوئی تقسیم، نشاندہی یا باؤنڈری وال یا دیوار وغیرہ نہیں کی گئی ہے بلکہ تینوں بھائیوں ، والد صاحب اور والدہ کی مشترکہ رہائش شمار کی جاتی رہی ہے ۔ والد صاحب کی وفات کے بعد میرے بڑے بھائی نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ اس نے مختلف مواقع پر اس گھر کی تعمیرمیں -/ 36،00،000 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں اور یہ پلاٹ 12 لاکھ روپے کا خریدا گیا تھا لہٰذا اُس کے ہر لحاظ سے مکان کی موجودہ قیمت اور پلاٹ کے تہائی حصہ پر حق ہے۔ یہاں یہ امر قابلَ ذکر ہے کہ بڑے بھائی نے مکان پر یہ رقم خرچ کرتے ہوئے کبھی اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ یہ رقم سب پر قرض ہے بلکہ اپنی مرضی سے مکان کی تعمیر پر خرچ کی اور اب بضد ہے کہ اس کے پاس تمام رسیدیں اور ریکارڈ موجود ہے ۔ صورتِ مذکورہ کے اعتبار سے درج ذیل امور کے بارے میں راہنمائی فرمائیں :

جواب

Fatwa: 814-434/TB-Mulhaqa=8/1443

 (1)سوال سے اندازہ ہوتا ہے كہ آپ كے والد مرحوم نے جو پلاٹ آپ كی والدہ كے نام كیا تھا‏، وہ ہبۃً وتملیكًا نہ تھا؛ بلكہ كسی مصلحت سے اس پر ان كا نام درج كرا دیا تھا‏، اگر واقعہ بھی یہی ہے تو صورت مسئولہ میں یہ پلاٹ والد صاحب كا مانا جائے گا؛ لہذا آپ كے والد كے‏،اس پلاٹ كی قیمت نئے مكان میں استعمال كرنے كی وجہ سےآپ كی والدہ كا اس مكان میں اضافی حصہ نہ ہوگا ؛ بلكہ شرعی ضابطے كے مطابق میراث كا جتنا حصہ ان كا آپ كے والد كے تركہ میں بنتا ہے‏، اتنا ہی انھیں ملے گا ۔

(2‏) محض بھائیوں كے نام رجسٹری كرانے كی وجہ سے بھائی اس كے مالك نہیں ہوئے تھے؛ بلكہ والد مرحوم ہی اس مكان كے مالك تھے‏، والد صاحب كا ہبہ اس وقت تام ہوتا جب وہ ہرایك بیٹے كا حصہ مشخص ومتعین كركے‏، ہر یك كے قبضہ دخل میں دے دیتے اور خود اس سے كلی طور پر دستبردار ہوجاتے؛ لیكن صورت مسئولہ میں ایسا نہیں ہوا ہے؛ لہذا یہ مكان اسی طرح والد مرحوم نے جو كچھ بھی تركہ چھوڑا ہے‏، سب ان كے ورثا(آپ كی والدہ‏، آپ تینوں بھائیوں اور دونوں بہنوں )كے درمیان شریعت كے ضابطے كے مطابق تقسیم ہوگا‏، اگر آپ كے دادا دادی كا انتقال والد صاحب سے پہلے ہی ہوگیا تھا تو مرحوم كا كل تركہ مجموعی طور پر 64/حصوں میں تقسیم ہوكر‏، 8/حصے آپ كی والدہ كو‏،14ـــــــــ14 حصے آپ تینوں بھائیوں كو اور 7 ــــــ 7 حصے آپ كی دونوں بہنوں كو ملیں گے‏، بہنوں كے مطالبہ نہ كرنے كی وجہ سے تركہٴ والد سے ان كا حق ساقط نہیں ہوا‏، انھیں ان كا حق بہرحال ادا كرنا پڑے گا ۔

....شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح.[الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 8/ 489‏،ط: زكريا‏، ديوبند]

(3) اس گھر كے آٹھویں حصے میں والدہ كی ملكیت ہے‏، وہ اپنے حصے میں بہرحال رہائش اختیار كرسكتی ہیں ۔

(4) اگر بڑے بھائی كے پاس اس بات پر شرعی گواہ موجود ہیں كہ انھوں نےوالد مرحوم كو تعاون كےطور پر نہیں ؛ بلكہ بہ طور قرض رقم دی تھی‏،تو صورت مسئولہ میں تقسیمِ تركہ سے پہلے ان كا قرض ادا كرنا ضروری ہوگا یعنی انھوں نے والد مرحوم كو اصلا جتنی رقم دی تھی وہ ان كو ملے گی‏، آج كی قیمت كے اعتبار سے نہیں ۔

(5) مطالبہ پر والد مرحوم نے كیا جواب دیا تھا؟ اس سلسلے میں آپ كی والدہ اور بہنیں كیا كہتی ہیں‏؟ ان امور كی وضاحت كركے دوبارہ سوال كرلیں‏، اورآئندہ سوال پر بہ شمول بڑے بھائی كے‏،تمام ورثا سےدستخط كرالیں ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :610594
تاریخ اجراء :27-Mar-2022

فتوی پرنٹ