کیا ڈراپ شیپنگ حلال ہے یا حرام؟

سوال کا متن:

کیا ڈراپ شیپنگ حلال ہے یا حرام؟

جواب کا متن:

Fatwa: 454-119/TH-Mulhaqa=09/1443

 کسی منقولی چیز کو فروخت کرنے کے لیے جیسے یہ ضروری ہے کہ وہ چیز فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو، اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وہ پہلے فروخت کرنے والے کے قبضہ میں آجائے ، پھر وہ کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت کرے، اگر وہ خرید نے کے بعد قبضہ سے پہلے کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت کرتا ہے تو یہ جائز نہیں، ایسی بیع شریعت کی نظر میں فاسد ہوتی ہے ، پس ڈراپ شپنگ میں اگر آپ کی بیان کردہ توجیہ صحیح تسلیم کرلی جائے تب بھی دوسری خرابی سے چارہ نہیں؛ لہٰذا ڈراپ شپنگ جائز نہیں۔

وشرط المعقود علیہ ستة:کونہ موجوداً مالا متقوما مملوکاً في نفسہ وکون الملک للبائع فیما یبیعہ لنفسہ وکونہ مقدور التسلیم؛ فلم ینعقد بیع المعدوم،………ولا بیع ما لیس مملوکا لہ وإن ملکہ بعدہ ……، وأما الثالث وھو شرائط الصحة فخمسة وعشرون، منھا عامة ومنھا خاصة فالعامة لکل بیع شروط الانعقاد المارة ……والخاصة: معلومیة الأجل في البیع الموٴجل ثمنہ والقبض في بیع المشتري المنقول إلخ (رد المحتار، أول کتاب البیوع، ۷: ۱۵، ۱۶ ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۱۴: ۲۱ - ۲۳، ت: الفرفور، ط: دمشق نقلاً عن البحر)۔

وفی المواھب: وفسد بیع المنقول قبل قبضہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب البیوع، باب المرابحة والتولیة، ۷:۳۷۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۱۵: ۱۵۴،ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :609445
تاریخ اجراء :13-Apr-2022