قربانی اور عقیقہ سے متعلق چند سوالات

سوال کا متن:

قربانی اور عقیقہ سے متعلق چند سوالات

جواب کا متن:

Fatwa: 952-203T/M=08/1443

 صورت مسئولہ میں آپ كو اختیار ہے چاہے سعودیہ میں قربانی كریں یا پاكستان میں روپیہ بھیج كر قربانی كرادیں‏، دونوں طرح سے درست ہے‏۔ اگر پاكستان میں قربانی كراتے ہیں تو اس كا خیال ركھیں كہ دونوں جگہ ایام نحر ہو‏، اور آپ اپنی امی كے لیے اور بھائیوں كے لیے بھی قربانی كے پیسے بھیج سكتے ہیں اور اس پیسے سے اُن كی قربانیاں درست ہوجائیں گی‏، نیز اپنے بھتیجے اور بھتیجوں كا عقیقہ اُن كے ماں باپ كی اجازت سے اپنے پیسے سے كراسكتے ہیں‏، بھائی كا یہ كہنا كہ جب تك ہمارے عقیقے نہیں ہوں گے تب تك بچوں كے نہیں ہوں گے یہ درست نہیں‏۔ بچوں كی طرف سے عقیقہ درست ہے چاہے باپ كا عقیقہ نہ ہوا ہو۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :610768
تاریخ اجراء :27-Mar-2022