1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. متفرقات
  3. تاریخ و سوانح

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت یوسف علیہ السلام دونوں میں سب زیادہ خوب صورت، حسین اور جمیل کون ہیں؟

سوال

ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت یوسف علیہ السلام میں سے کون زیادہ خوبصورت ،حسین اور جمیل ہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:782-92T/N=9/1440
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق خدا میں سب سے زیادہ صاحب جمال تھے ، یعنی: آپ کے اعضا ئے مبارکہ اور جسم مبارک کا ہر ہر جزو وحصہ ساخت وپرداخت وغیرہ میں سب سے زیادہ معتدل تھا ، اور اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت یوسف علی نبینا وعلیہ الصلاة والسلام دونوں مخلوق خدا میں سب سے زیادہ خوب صورت تھے؛ البتہ دونوں میں سب سے زیادہ خوب صورت کون تھا؟ اس میں علما کا اختلاف ہے، حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے فرمایا:حضرت اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق خدا میں سب سے زیادہ صاحب جمال تھے اور حضرت یوسف علی نبینا وعلیہ الصلاة والسلام سب سے زیادہ خوبصورت تھے؛ جب کہ اکثر علما فرماتے ہیں کہ حضرت اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق خدا میں سب سے زیادہ خوب صورت بھی تھے ، جس کی دلیل سنن ترمذی کی روایت ہے کہ حضرت انس فرماتے ہیں:اللہ تعالی نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا، وہ خوب صورت اور بہترین آواز والا تھا اور تمہارا نبی ان سب میں سب سے زیادہ خوب صورت اور سب سے اچھی آواز والا ہے۔ اور مسلم شریف(۱: ۹۱، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند) کی روایت میں ہے: حضرت یوسف علیہ السلام کو نصف حسن سے نوازا گیا تھا، ابن المنیر نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اس حسن کا نصف دیا گیا تھا جو آپ علیہ الصلاة والسلام کو دیا گیا تھا۔یا یہ کہا جائے کہ خود متکلم اس میں داخل نہیں ہے، یعنی: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دیگر انسانوں میں حضرت یوسف علی نبینا وعلیہ الصلاة کو نصف حسن دیا گیا تھا۔ اس کی تائید حضرت عائشہ کے اس شعر سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں آپ  نے فرمایا: حضرت یوسف علیہ السلام کا حسن دیکھ کر عورتوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لی تھیں، اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن وجمال دیکھ لیتیں تو اپنے دل کاٹ لیتیں (خصائل نبوی ، ص ۱۶) یا یہ کہا جائے کہ حسن وجمال میں جن جن باتوں کا لحاظ کیا جاتا ہے، ان سب میں مجموعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت یوسف علیہ الصلاة والسلام پر لائق وفائق تھے۔
”وإذا ھو قد أعطي شطر الحسن الخ“:وفي حدیث أبي سعید عند البیھقي وأبي ھریرة عند ابن عائذ والطبراني: ”فإذا أنا برجل أحسن ما خلق اللہ، قد فضل الناس بالحسن کالقمر لیلة البدر علی سائر الکواکب“، وھذا ظاھرہ أن یوسف علیہ السلام کان أحسن من جمیع الناس، وروی الترمذي من حدیث أنس : ”ما بعث اللہ نبیاً إلا حسن الوجہ حسن الصوت، وکان نبیکم أحسنھم وجھاً وأحسنھم صوتاً“ فعلی ھذا فیحمل حدیث المعراج أن المراد غیر النبي صلی اللہ علیہ وسلم، ویوٴیدہ قول من قال: إن المتکلم لا یدخل في عموم خطابہ، وأما حدیث الباب فقد حملہ ابن المنیر علی أن المراد أن یوسف أعطي شطر الحسن الزي أوتیہ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم واللہ أعلم، ……والجمیل من کان متناسب الأعضاء أي: کل عضو منہ مناسب لمقابلہ وملاصقة في صفاتہ المستحسنة ووصفہ کالطول والقصر والصغر مع صفاء لونہ واعتدال قدرہ۔…… وادعی شیخ شیخنا نور اللہ مرقدہ أن نبینا کان أجمل خلق اللہ کما أن یوسف علیہ الصلاة والسلام کان أحسنہ۔……قال علي القاري: وقد قال بعض الحفاظ من المتأخرین وھو من مشایخنا المعتبرین: إنہ کان أحسن من یوس علیہ السلام إذ لم ینقل أن صورتہ کان یقع من ضوئھا علی الجدران ما یصیر کالمرآة یحکي ما یقابلہ، وقد حکی ذلک عن صورة نبینا صلی اللہ علیہ وسلم لکن اللہ تعالی ستر عن أصحابہ کثیراً من ذلک الجمال الباھر فإنہ لو برز لھم لم یطیقوا النظر إلیہ کما قالہ بعض المحققین، أما جمال یوسف علیہ السلام فلم یستر منہ شیٴ (فتح الملھم، ۲: ۲۵۰، ۲۵۱، ط: مکتبة فیصل دیوبند)، ”حسن الوجہ حسن الصوت“: وفي روایة للمصنف : وکان نبیکم أحسنھم وجھاً وأحسنھم صوتاً أي: أملحھم وأفصحھم ولا ینافي ذلک حدیث البیھقي وغیرہ فی المعراج أنہ صلی اللہ علیہ وسلم قال في حق یوسف علیہ السلام: فإذا أنا برجل أحسن ما خلق اللہ وقد فضل الناس بالحسن کالقمر لیلة البدر علی سائر الکواکب لأن المراد أحسن ما خلق اللہ بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم جمعاً بین الحدیثین علی أن ھنا قولا لجماعة من الأصولیین: إن المتکلم لا یدخل في عموم کلامہ وحمل ابن المنیر روایة مسلم أنہ أعطي شطر الحسن علی أن المراد بہ أعطي شطر الحسن الذي أوتیہ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم (جمع الوسائل في شرح الشمائل، ۲: ۱۱۵، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :170126
تاریخ اجراء :Jul 30, 2019

فتوی پرنٹ