1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. متفرقات
  3. حلال و حرام

ایم‏، ایل‏، اے‏، سے ہدیہ لینا کیسا ہے؟

سوال

مجھے ایک ایم ایل اے نے ایک موبائل ہدیہ دیا ہے جو ابھی دنیا میں نمبر وَن ہے۔ تو میں نے قبول کر لیا لیکن بعد میں احساس ہوا کہ وہ تو ایم ایل اے ہے، اور انڈیا کا ایم ایل اے مطلب ضرور سمجھیں گے اور ان کی انکم وغیرہ۔ یہی بات مجھے شبہ میں لگتی ہے اگر وہ حرام کی انکم سے موبائل دیا ہے تو کیا یہ حرام کی ہے یا جائز یعنی میں استعمال کرسکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 1063-964/SN= 12/1439
دوسرے کا ہدیہ لینے سے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ اگر اس کی غالب آمدنی حلال کی ہے تو لینا جائز ہے اگر غالب حرام کی ہے تو جائز نہیں ہے۔ آکل الربا وکاسب الحرام لو أہدی إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل مالم یخبرہ أن ذلک المال أصلہ حلال ورثہ أو استقرضہ ، وإن کان غالب مالہ حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ الخ (ہندیہ) ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :163137
تاریخ اجراء :Sep 13, 2018

PDF ڈاؤن لوڈ