1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عقائد و ایمانیات
  3. اسلامی عقائد

کسی کے بارے میں جانے بغیر اس کے اوپر کفر کا فتوی لگانے کا حکم

سوال

کسی کے بارے میں جانے بغیر اس کے اوپر کفر کا فتوی لگانا یا یہ کہنا کہ یہ مشرک ہے اور صرف اپنی عقل کی بنا پر مشرک سمجھتے ہوئے نماز جنازہ نہ پڑھنا اور میت میں شرکت نہ کرنا جائز ہے؟ جیسا کہ اگر کوئی شخص نیاز وغیرہ کرتاہے، تو بھائی اس کو یہ کہے کہ تم مشرک ہو اور جنازے میں شرکت نہ کرے اور تقریباً سب ہی لوگوں کو ایسا کہے تو یہ عمل کیسا ہے؟ کیا سگے بہن بھائیوں کو ایسا کہنا جائز ہے جب کہ حقیقت میں دلوں کا حال اللہ جانتاہے کہ کیا پتا کس کی کس نیکی پہ بخشش ہوجائے۔ براہ کرم، جواب دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کافر کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 974-827/D=10/1440
کافر اور مشرک کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں بشرطیکہ اس کا کفر اور شرک قطعی طور پر ثابت ہونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کافر کی نماز جنازہ نہیں پڑھی کسی مسلمان کی نماز جنازہ محض شک شبہ کی بنیاد پر پڑھنا ترک کرنا برا اور گناہ ہے۔ ابوداوٴد کی روایت کا ایک جز یہ ہے کہ والصلاة واجبة علی کل مسلم براً کان او فاجراً وان عمل الکبائر (ص: ۳۴۳/۱، ابوداوٴ) یعنی چاہے گناہ گار شخص کیوں نہ ہو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
اگر کوئی شخص دوسرے مسلمان بھائی کو کافر کہہ دے تو حدیث میں اس پر سخت وعید آئی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ جس کو کہا جا رہا ہے اگر وہ ایسا ہوا تو اس کے لئے باعث وبال ہے اور اگر کافر نہ ہوا تو خود کہنے والے کے لئے جملہ باعث وبال بنے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :171146
تاریخ اجراء :Jul 2, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ