1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. متفرقات
  3. تاریخ و سوانح

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی اور رخصتی ایک ہی دن میں ہوئی یا مختلف دنوں میں..؟

سوال

١) حضرت فاطمۃ رضی اللہ عنہا کی شادی اور رخصتی ایک ہی دن میں ہوئی یا مختلف دنوں میں..؟
مجھے ایک کتاب کے ( جو کہ شادی سُنّت کے مطابق کیجئے از مولانا منیر احمد صاحب کالینا) ذریعے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شادی اور رخصتی ایک ہی دن میں ہوئی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند صحابہ کو بلایا اور اعلان فرمایا کہ گواہ رہو میں نے چار سو مثقال چاندی پر اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کا نکاح علی کے ساتھ کر دیا ہے اور علی نے اسے قبول کرلیا۔ اور دعا کےلۓ ہاتھ اٹھا دیۓ۔ اور آپ نے دعا فرمائی۔ نکاح کے بعد چھوہارے بانٹے گۓ اور شاب شب میں امّ ایمن رضی اللہ عنہا کے ہمراہ انتہائی سادگی کے ساتھ حضرت فاطمہ کو حضرت علی کے گھر بھیج دیا۔
٢) مولانا منیر احمد صاحب کالینا کون ہے ، کس درجے کے عالم ہے اور کہاں سے فراغت ہے

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:328-29T/L=4/1440
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے بارے میں اہلِ سیر کا اختلاف ہے، بعض روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نکاح کے فوراً بعد رخصتی عمل میں آگئی، بعض نے لکھا ہے کہ ایک ماہ بعد رخصتی ہوئی،اور بعض کا قول ہے کہ حضرت علی نے نکاح کے ساڑھے سات مہینے یا ساڑھے نو مہینے بعد رخصتی کرائی، ایک روایت یہ ہے کہ نکاح غزوہ بدر کے بعد ہوا اور رخصتی غزوہ احد کے بعد ہوئی۔مولانا منیر احمد صاحب نے اپنی کتاب ”شادی سنت کے مطابق کیجیے “میں جوبات لکھی ہے وہ بھی ایک قول ہے۔
(۲) مولانا منیر صاحب کے بارے میں تفصیلی علم ہمیں نہیں ہے ۔
وأخرج ابن سعد، عن الواقدیّ، من طریق أبی جعفر، قال: نزل النبیّ صلّی اللَّہ علیہ وآلہ وسلّم علی أبی أیّوب، فلمّا تزوّج علیّ فاطمة قال لہ: التمس منزلا ، فأصابہ مستأخرا، فبنی بہا فیہ، فجاء إلیہا، فقالت لہ: کلّم حارثة بن النّعمان. فقال: قد تحوّل حارثة حتی استحییت منہ، فبلغ حارثة فجاء فقال: یا رسول اللَّہ، واللَّہ الّذی تأخذ أحبّ إلی من الّذی تدع. فقال: صدقت، بارک اللَّہ فیک، فتحوّل حارثة من بیت لہ فسکنہ علیّ بفاطمة.
ومن طریق عمر بن علیّ، قال: تزوّج علیّ فاطمة فی رجب سنة مقدمہم المدینة، وبنی بہا مرجعہ من بدر، ولہا یومئذ ثمان عشرة سنة․ (الإصابة فی تمییز الصحابة:8/264،الناشر: دار الکتب العلمیة بیروت)
وَتَزَوَّجَہَا الإِمَامُ عَلِیُّ بنُ أَبِی طَالِبٍ فِی ذِی القَعْدَةِ أَوْ قُبَیْلَہُ مِنْ سَنَةِ اثْنَتَیْنِ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ.وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ البَرِّ: دَخَلَ بِہَا بَعْدَ وَقْعَةِ أُحُدٍ فَوَلَدَتْ لَہُ الحَسَنَ وَالحُسَیْنَ وَمُحْسِناً وَأُمَّ کُلْثُوْمٍ وَزَیْنَبَ.وَرَوَتْ عَنْ أَبِیْہَا․ (سیر أعلام النبلاء:3/415،الناشر: دار الحدیث- القاہرة)
قَالَ ابْن السراج: سمعت عَبْد اللَّہِ بْن مُحَمَّد بْن سُلَیْمَانَ بْن جعفر الہاشمی یقول: ولدت فاطمة رضی اللَّہ عنہا سنة إحدی وأربعین من مولد النَّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وأنکح رَسُول اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فاطمة عَلِیّ بْن أَبِی طَالِبٍ بعد وقعة أحد. وقیل: إنہ تزوجہا بعد أن ابتنی رَسُول اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بعائشة بأربعة أشہر ونصف، وبنی بہا بعد تزویجہ إیاہا بتسعة أشہر ونصف․ (الاستیعاب فی معرفة الأصحاب:4/1893،الناشر: دار الجیل، بیروت)
تَزَوَّجَہَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فِی السَّنَةِ الثَّانِیَةِ مِنَ الْہِجْرَةِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ، وَبَنَی عَلَیْہَا فِی ذِی الْحِجَّةِ․ (مرقاة المفاتیح: ،بَابُ مَنَاقِبِ أَہْلِ بَیْتِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ)
وَنَقَلَ الْبَیْہَقِیُّ عَنْ کِتَابِ الْمَعْرِفَةِ لِأَبِی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَنْدَہْ أَنَّ عَلِیًّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بَعْدَ سَنَةٍ مِنَ الْہِجْرَةِ وَابْتَنَی بِہَا بعد ذلک لسنة أُخْرَی .
قُلْتُ: فَعَلَی ہَذَا یَکُونُ دُخُولُہُ بِہَا فِی أَوَائِلِ السَّنَةِ الثَّالِثَةِ مِنَ الْہِجْرَةِ فَظَاہِرُ سِیَاقِ حَدِیثِ الشَّارِفَیْنِ یَقْتَضِی أَنَّ ذَلِکَ عَقِبَ وَقْعَةِ بَدْرٍ بِیَسِیرٍ فَیَکُونُ ذَلِکَ کَمَا ذَکَرْنَاہُ فی أوخر (أواخر) السنة الثانیة واللہ أعلم․ (البدایة والنہایة:3/419،الناشر: دار إحیاء التراث العربی)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :167076
تاریخ اجراء :Dec 13, 2018

فتوی پرنٹ