1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. متفرقات
  3. تاریخ و سوانح

دنیا میں كتنے انبیاء آئے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ جماعت کے ساتھی کہتے ہیں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام اس دنیا میں تشریف لائے کیا اس کا ثبوت قرآن و احادیث میں موجود ہے ؟
۲- کیا اس طرح کہے سکتے ہیں کہ اللہ نے انبیاء کرام کو تکلیف میں دیکھنا پسند کیا لیکن دین کو مٹنا پسند کیا؟ ان سوالات پر برائے کرم تفصیلا روشنی ڈالیے ۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:650-694/L=7/1440
(۱) بعض احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزارانبیاء کرام تشریف لائے ہیں۔ عن أبی ذر رضی اللہ عنہ...ثم ذکر الحدیث إلی أن قال: فقلت: یا رسول اللہ، کم النبیون؟ قال: ”مائة ألف وأربعة وعشرون ألف نبی“ قلت: کم المرسلون منہم؟ قال: ”ثلاث مائة وثلاثة عشر“ وذکر باقی الحدیث(المستدرک علی الصحیحین للحاکم 2/ 652،الناشر: دار الکتب العلمیة بیروت)
(۲)یہ بات تو احادیث سے ثابت ہے کہ سب سے زیادہ تکلیف اور آزمائش انبیاء پر آتی ہے اور ان کو تکالیف ومصائب میں مبتلاکیا جاتا ہے ،اور یہ سب اللہ کی دین کی تبلیغ واشاعت کے لیے ہوتا ہے،اتنی بات درست ہے؛ البتہ اس مضمون کو مذکورہ بالا انداز میں بیان کرنا مناسب نہیں، یہ لوگوں میں تشویش کا باعث ہوسکتا ہے۔
عن مصعب بن سعد، عن أبیہ، قال: قلت: یا رسول اللہ، أی الناس أشد بلاء؟ قال: الأنبیاء ثم الأمثل فالأمثل، فیبتلی الرجل علی حسب دینہ، فإن کان دینہ صلبا اشتد بلاؤہ، وإن کان فی دینہ رقة ابتلی علی حسب دینہ، فما یبرح البلاء بالعبد حتی یترکہ یمشی علی الأرض ما علیہ خطیئة : ہذا حدیث حسن صحیح(سنن الترمذی: ۲/۶۵،رقم: 2398،باب ما جاء فی الصبر علی البلاء)
(عن أنس - رضی اللہ تعالی عنہ - قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: " لقد أخفت ") : مجہول ماض من الإخافة أی: خوفت (" فی اللہ ") أی: فی إظہار دینہ (مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح ط؛ مطتبہ امدایہ: ۱۰/ ۱۶،باب فضل الفقراء وما کان من عیش النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :168742
تاریخ اجراء :Mar 31, 2019

فتوی پرنٹ