1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. متفرقات
  3. دیگر

غیر محرم بہنوں سے بات كرنا كیسا ہے؟

سوال

میں پہلے اپنے غیر محرم بہنوں جیسے خالہ زاد، پھوپھی زاد ، ماموں زاد اور چچازاد بہنوں سے بات کیا کرتا تھا سامنے بھی اور فون پر بھی کیونکہ میں سمجھتا تھا بات کرنا جائز ہے۔ لیکن مجھے پتا چلا دیکھنا اور بات کرنا دونوں حرام ہے۔ تو میں اس چیز سے بچتا ہوں، ان کے فون آتے ہیں، ان کی زندگی دین سے خالی ہے، نہ پردہ کا اہتمام ہے نہ دین پر چلنے کی کوئی کوشش ہے۔ میں شادی شدہ ہوں، میری عمر ۳۱/ سال ہے، میں اگر ان کی اصلاح اور ہدایت کے لئے دعوت کے ارادہ سے بات کروں تو میرا بات کرنا درست اور جائز ہے ، یہ حرام تو نہیں؟
مہربانی کرکے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 14-25/D=2/1440
اس وقت تو آپ ان کے سامنے مسئلہ واضح کردیں کہ تم لوگ میرے لئے نامحرم ہو جن کے بے محابا آمنے سامنے آنا، بے تکلف باتیں کرنا بلا ضرورت پردہ سے بھی باتیں کرنا گناہ ہے چونکہ آپ لوگ نامحرم ہیں اس لئے آپ لوگوں سے پردہ کرنا واجب ہے لہٰذا میں حکم شریعت کی بنا پر بات چیت کا سلسلہ بند کرتا ہوں اور پردہ کا اہتمام کروں گا چونکہ اپنی اصلاح پہلے ضروری ہے اور ایسے مواقع پر خود کے بہکنے اور شیطان کے بہکانے کے امکانات کا قوی اندیشہ ہوتا ہے اس لئے بہتر ہے کہ کسی نیک دین دار عالم سے یا متقی شیخ سے اپنا تعلق قائم کرلیں پھر اس کے مشورہ کے مطابق دین کی باتیں بذریعہ موبائل یا پردہ کی آڑ سے انہیں پہونچادیں یا دینی رسالہ پڑھنے یا دینی مجلس میں شرکت کرنے کو کہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :165071
تاریخ اجراء :Oct 22, 2018

PDF ڈاؤن لوڈ