1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. طہارت

دیا بیطس كی وجہ سے پاك رہنا مشكل ہو تو نماز كا كیا حكم ہے؟

سوال

میرے والد صاحب معلم ہیں ،انہیں ذیابیطس (diabetes) کا مرض ہے، جس کی وجہ سے انہیں پاک رہنا بہت مشکل ہو پاتا ہے، جب انہیں استنجاء کی حاجت ہوتی ہے تو بہت تیزی سے استنجاء آتا ہے، اور اکثر واش روم پہنچنا اور پھر کپڑے اور زِپ (چین) وغیرہ کھولنے میں اتنا وقت لگ ہی جاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ناپاکی کپڑے میں لگ جاتی ہے، اور کبھی کبھی زیادہ لگ جاتی ہے۔ اب چونکہ وہ ہر وقت گھر پر نہیں رہتے اور نوکری کے لیے بھی جانا ہوتا ہے اس لیے کپڑے بھی بدل نہیں سکتے، اس وجہ سے وہ نماز بھی نہیں پڑھ پاتے ہیں۔ براہ کرم اس کا کوئی حل بتائیں جس سے وہ نماز بھی پڑھ سکیں اور دیگر عبادت بھی کرسکیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 715-599/D=8/1438
جب آفس وغیرہ جائیں تو ٹیشو پیپر یا کچھ زائد کپڑے استنجے کے مقام پر رکھ لیا کریں تاکہ پیشاب چھوٹ جانے کی صورت میں اصل کپڑے خراب نہ ہوں یا پھر پیمپر باندھ لیں؛ لیکن جو بھی ہو اگر کپڑے پھر بھی خراب ہوجاتے ہیں تو صرف بدن کے اس حصے کو دھوکر تہبند یا پائجامہ بدل کر نماز پڑھ لیا کریں۔ یا کپڑے کے صرف اس حصے کو دھولیں تو بھی نماز پڑھ سکتے ہیں نہ تو نہانا ضروری ہے نہ ہی پورے کپڑے تبدیل کرنا ضروری ہے، نماز نہ پڑھ سکنے کا عذر بہت کمزور ہے، تھوڑی کوشش اور توجہ سے نماز ادا کرنا آسان ہوجائے گا۔
اور اگر کبھی ایک دو وقت کی نماز نہیں پڑھ سکے تو گھر پر پاکی اور صفائی کرکے قضا پڑھ لیا کریں۔ نماز ذمہ میں باقی نہ رکھیں کہ سخت گناہ ہے اور سب کی قضا کرنا زندگی میں آسان نہ ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :150930
تاریخ اجراء :May 22, 2017

PDF ڈاؤن لوڈ