1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. متفرقات
  3. دیگر

قبلہ کا رخ صحیح کیسے معلوم کریں؟

سوال

میں ایک رفاہی ادارہ سے جڑا ہوں، جس میں ایک ایوینٹ اور پروجیکٹ پر کام کرنا مناسب محسوس کررہے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ قبلہ کا رخ مثلاً یہ ہے کہ ہمارے شہر کے کچھ محلہ میں تحقیق کی بنا پر معلوم ہوا ہے کہ کچھ گھروں میں اور کچھ مسجد میں بھی قبلہ کے رخ میں کچھ غلطی ہوئی ہے، ہم نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے یہاں کے دارالافتاء سے رابطہ کیا مگر کچھ طریقہ کار سامنے نہیں آیا، آپ سے گذارش ہے کہ آپ اس مسئلہ پر رہنمائی فرمائیں۔
(۱) قبلہ کا رخ صحیح ہو کتنا ضروری ہے ؟
(۲) قبلہ کا رخ صحیح کیسے معلوم کریں؟
(۳) اس کے لیے کوئی معتبر آلات یا ڈوائس کی جانکاری ؟
(۴) کتنے ڈگری کا فرق جائز ہوگا؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 189-136/D=2/1438
(۱، ۲،۳) نماز کے اندر قبلہ کے رخ کا صحیح ہونا یہ فرض ہے ۔ ﴿وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوہَکُمْ شَطْرَہُ﴾ أي شطر المسجد الحرام (سورہٴ بقرہ)۔
صحابہٴ کرام، سلفِ صالحین یا اس کے بعد کے دور کی جو مسجدیں ہیں ان سے بھی سمتِ قبلہ معلوم کیا جاسکتا ہے اور نئی مسجد کا رُخ اس کے مطابق بنایا جاسکتا ہے ۔ اگر یہ نہ ہو یا یونہی آدمی صحیح سمتِ قبلہ جاننا چاہے تو اس کے معلوم کرنے کے آسان طریقے دو ہیں۔ پہلا طریقہ یہ کہ گرمی کے موسم کا سب سے بڑا دن یعنی ۲۲/ جون اور سردی کے موسم کا سب سے چھوٹا دن یعنی ۲۲/ دسمبر میں سورج ڈوبنے کی جگہ دیکھی جائے دونوں دنوں میں جس نقطہ پر سوج ڈوب رہا ہے ان دونوں نقطوں کے درمیان سمتِ قبلہ ہے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ۲۹/ مئی اور ۱۴/ جولائی کی تاریخوں میں اپنے شہر اور مکہ معظمہ میں جتنے گھنٹہ اور منٹ کا فرق ہو، نصف النہار کے بعد اتنے گھنٹہ او رمنٹ پر کسی لکڑی کا سایہ دیکھیں یا خود سیدھے دھوپ میں کھڑے ہو جائیں۔ اس وقت کا سایہ ٹھیک سمتِ قبلہ کو بتائے گا۔
(۴) قبلہ کے سمت سے ۲۴/ ڈگری دائیں اور بائیں جانب فرق ہونے پر نماز صحیح ہو جائے گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :146194
تاریخ اجراء :Nov 29, 2016

PDF ڈاؤن لوڈ