1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. صلاة (نماز)

فرض اور سنت موکدہ کے درمیان میں دعا کا رٹنا کیسا ہے ؟

سوال

ہمارے یہاں کچھ مدرسوں میں پچھلے کچھ دنوں سے ایک نیا کام شروع کیا گیا ہے اور اسے لیکر لوگوں میں بحث بھی چھڑگئی ہے کہ یہ سنت ہے یا بدعت یا پھر جائز ہی نہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ مغرب کے وقت فرض نماز کے بعد دعا سے پہلے ایک لڑکا کھڑا ہوکر یہ دعا تین مرتبہ پڑھتا ہے " بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شء فی الأرض ولا فی السماء" پھر سارے طلبہ اسے دہراتے ہیں۔ پھر امام صاحب دعا کرتے پھر جا کے سب اپنا سنت موکدہ اداکرتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح صبح کی نماز میں بھی کرتے ہیں صرف دعا بدل کے پڑھتے ہیں۔ اب فرض اور سنت موکدہ کے درمیان ایسا کرنا صحیح ہے یا نہیں یا پھر کیا ہے ؟
براہ کرم پورے مسئلہ کی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کیجئے ۔ جواب جلد از جلد مطلوب ہے ۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:804-153/sn=8/1439
مسنون طریقہ یہ ہے کہ فرض نمازوں (جن کے بعد سنتیں ہیں) کے بعد مختصراً دعا کرکے سنت ادا کی جائے، ادائیگیٴ سنت میں زیادہ تاخیر کو فقہاء نے مکروہ اور ناپسندیدہ لکھا ہے؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں نماز مغرب کے بعد سنت سے پہلے مذکور فی السوال معمول قابل ترک ہے، نماز کے بعد صرف مختصر دعا پر اکتفاء کیا جائے اور بسم اللہ الذی لا یضر الخ پڑھنے پڑھانے کا معمول سنت کے بعد رکھا جائے۔ رہا نماز فجر کے بعد کا معمول تو اسے باقی رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ بعد فجر کوئی سنت نہیں ہے۔ لیکن دعا کے بعد اس پر عمل کیا جائے دعا سے پہلے نہیں اور اس کا خیال رکھا جائے کہ مسبوق کی نماز میں خلل نہ ہو۔ ویکرہ تأخیر السنة إلا بقدر اللہم أنت السلام الخ قال الحلوائي: لا بأس بالفعل بالأوراد، واختارہ الکمال، قال الحلبي إن أرید بالکراہة التنزیہیّة ارتفع الخلاف الخ (درمختار مع الشامي: ۲/ ۲۴۷، ط: زکریا)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :160113
تاریخ اجراء :May 10, 2018

PDF ڈاؤن لوڈ