1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. عبادات
  3. صلاة (نماز)

كیا نماز كی نیت میں نماز كا نام لینا ضروری ہے؟

سوال

محترم جناب مفتی صاحب! کیا جب ہم مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں تب ہمیں نیت کرنا ضروری ہے جیسے کہ ظہر کی فرض نماز ادا کرنے کے لیے ظہر اور فرض نماز کا وقت ہے تو تحیة المسجد یا سنت موٴکدہ پڑھنے کے لیے نیت کرنی پڑے گی؟ (میرا سیدھا مطلب یہ ہے کہ چاہے فجرکی سنت ہو یا نفل نماز کے لیے نیت ضروری ہے یا سیدھے نماز کے لیے کھڑے ہو جائیں)۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:721-81T/sd=7/1439
 سننِ موٴکدہ یا نوافل میں صرف یہ نیت کافی ہے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں، یہ کہنا لازم نہیں کہ میں مثلاً فجر یا ظہر کی سنت ادا کررہا ہوں، اس تعیین کے بغیر بھی سنتیں ادا ہوجاتی ہیں؛ تاہم اگر کوئی متعین کرلے تو کوئی حرج بھی نہیں۔
المصلی إذاکان متنفّلا سواء کان ذٰلک النفل سنة موٴکدة أو غیرہا یکفیہ مطلق نیة الصلاة ولا یشترط تعیین ذٰلک النفل بأنہ سنة الفجر مثلا۔ (غنیة المستملی شرح منیة المصلی ۲۴۷) وکفیٰ مطلق نیة الصلاة لنفل وسنة راتبة ولو سنة فجر؛ وکذا الأربع المنوی بہا أخر ظہر أدرکتہ عند الشک فی صحة الجمعة، وبہ تتأدی السنة کما بسطہ فی الفتح، وأخرہ فی البحر والنہر۔ (درمختار مع الشامی ۲/۹۴زکریا، الفتاویٰ الہندیة ۱/۶۷، الفتاویٰ التاتارخانیة ۲/۳۹رقم: ۱۶۳۴زکریا) وأما النوافل فاتفق أصحابنا أنہا تصح بمطلق النیة۔ (الأشباہ والنظائر قدیم ۱/۶۲ا) 
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :159387
تاریخ اجراء :Mar 22, 2018

PDF ڈاؤن لوڈ