مضاربت کی ایک فاسد صورت

سوال کا متن:

حضرت مفتی صاحب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایک گاڑی کا مالک بھٹے (اینٹیں تیار کرنے کی جگہ) سے اینٹ خرید کر پیھری کرتاہے مگر اس گاڑی مالک کے پاس رقم نہ ہونے کی وجہ سے میرے سے اس شرط کے ساتھ 30ہزار روپیہ ادھار لیتا ہے کہ آپ کی اس اصل رقم میں نقصان کے بغیر آپ کو نفع کا دسواں حصہ ملے گا (نفع و نقصان دونوں میں آپ شریک ہیں) تو کیا اس طرح کا معاملہ درست ہے کہ نہیں؟ مسئلہ واضح و مدلل فرما دیجئے کرم ہوگا۔

جواب کا متن:

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:526-544/sd=7/1440
 اگر گاڑی کے مالک کی آپ کے ساتھ معاملہ کی صورت یہ ہوتی ہے کہ گاڑی والا آپ سے تیس ہزار روپے لیتا ہے اس طور پر کہ اصل رقم کے علاوہ جو کچھ نفع ہوگا ، اُس میں سے دس فیصد آپ کو ملے گا ، تو شریعت کی رو سے اس معاملہ کی حیثیت مضاربت کی ہوگی، لہذا اگر نقصان ہوا، تو نقصان کی تلافی منافع کے بعد اصل پونجی سے کی جائے گی ، یعنی گاڑی کے مالک کے ذمہ نقصان کو پورا کرنا نہیں ہوگا ، پس اگر معاملہ میں یہ شرط لگائی جائے کہ نقصان کے باوجود پوری رقم گاڑی والا آپ کو واپس کرے گا ، تو یہ معاملہ فاسد ہوگا،اس لیے کہ مضاربت کے کاروبار میں اگر نقصان ہو جائے تو اوّلاً اس کی تلافی منافع سے کی جاتی ہے ، اگر منافع سے تلافی نہ ہو تو مال مضاربت سے اس کی تلافی کی جاتی ہے ایسی صورت میں رب المال کے مال کا نقصان ہوتا ہے اور مضارب کی محنت کا،پس اگرمضارب کاسرمایہ محفوظ رہنے کی شرط ہو تو یہ معاملہ جائز نہیں ہوتا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :168898
تاریخ اجراء :Mar 31, 2019