1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

كمپنی كا قسطوں میں تاخیر كی وجہ سے زائد رقم لینا

سوال

میں ایک تاجر ہوں اور سامان خرید کر نفع پر بیچتا ہوں ۔ ایک اور کمپنی ہے وہ اقساط پر چیزیں لوگوں کو خرید کر دیتی ہے ۔ اگر میں اس کمپنی کے پاس اپنے تجارت کو رجسٹر کر لوں تو لوگ میرے دکان میں کوئی چیز پسند کریں گے اور پھر اس قسطوں والی کمپنی کے پاس درخواست جمع کردیں گے ، وہ جب درخواست منظور کرلیں تو مجھے میری چیز کی اصل رقم دے دیں گے اور میں گاہک کو چیز دے دونگا ۔ یہاں میرا کمپنی اور گاہک دونوں سے کام ختم ہوا ۔ اب کمپنی اور گاہک کے درمیان اس طرح کا معاہدہ ہوتا ہے کہ گاہک چیز کی اصل رقم اور کچھ فیس مقررہ قسطوں میں جو کہ چار یا پانچ ہوتی ہیں ، بلا سود ادا کر سکتا ہے ، لیکن اگر گاہک اور وقت لیتا ہے تو اسے سود ادا کرنا پڑتا ہے ۔ جب گاہک کمپنی کو درخواست جمع کرتا ہے تو یہ تمام شرائط پہلے سے طے ہوتی ہیں ، یہ درخواست میرے کمپیوٹر سسٹم پر جمع ہوتی ہے ۔ آپ سے میرا سوال ہے کہ کیا میرا ایسا کرنا مجھے سود کے گناہ میں شریک یا معاون تو نہیں بنا رہا ، اور ایسا کرنا اسلامی شریعت یا چاروں آئمہ کرام کے کسی کے فقہ میں حرام ہے ۔ شکریہ

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 869-772/D=09/1440
جب درخواست منظور ہو جاتی ہے تو آپ کو چیز کی اصل رقم کون دیتا ہے اور سامان آپ سے کون لے جاتا ہے؟
اگر کمپنی کا نمائندہ یا وکیل آکر پیسے دے کر سامان لے جاتا ہے تو گویا آپ نے کمپنی کو وہ سامان بیچ دیا اب آگے کمپنی اپنے طریقہ کے مطابق گراہک کو قسطوں میں سامان دیتی ہے تو کمپنی کا دام بڑھا کر قسطوں میں سامان فروخت کرنا بھی جائز ہے، لیکن قسطوں کی مدت پوری ہونے پر اگر ادائیگی مکمل نہ ہو سکی تو اضافی مدت کے لئے کمپنی گراہک سے سود لیتی ہے ظاہر ہے کہ یہ سود قطعی طور پر حرام ہے لیکن چونکہ یہ گراہک اور کمپنی کے درمیان کا معاملہ ہے اس میں آپ کی کسی قسم کی کوئی شرکت نہیں ہے لہٰذا ان کے سودی معاملہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے آپ کو کوئی گناہ نہ ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :170233
تاریخ اجراء :Aug 8, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ