1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

سیونگ کاؤنٹ، کرنٹ اکاؤنٹ، فکسڈ اکاؤنٹ کے کیا مسائل ہیں؟

سوال

میں اکاؤنٹینٹ کی ملازمت کرتاہوں اوڈٹ آفس میں، مسئلہ یہ ہے کہ بینک میں ہم پیسہ حفاظت کے لے جمع کرتے ہیں یعنی ہر وقت پیسہ لے کر نہیں گھوم سکتے، اس لیے بینک میں جمع کرتے ہیں، بینک والے ہمارے پیسے کاٹ لیتے ہیں، اور انٹریسٹ (بیاز) بھی دیتے ہیں، ہمیں نہ اضافی پیسہ چاہئے اور نہ کم چاہئے، پہلے بینک میں چارج کے نام سے پیسے نہیں کٹتے تھے ، مگر حال ہی دو یا تین سال سے کاٹتے ہیں، اور وہ ہمارے پیسے سے دوسری جگہ سے منافع کماتے ہیں ، پھر چارج کے نام پہ پیسہ کاٹتے ہیں تو اس کا کیا مسئلہ ہے؟ اور چارج کا کیا حکم ہے؟ اور انٹریسٹ (بیاز) کیا حکم ہے؟ ل
آپ ہمیں اس مسئلہ کے بارے میں بتائیں؟ ہم کیسے اس سے بچیں اور امت کو کیسے سمجھائیں یہ؟
سیونگ کاؤنٹ، کرینٹ اکاؤنٹ، فیکس اکاؤنٹ کے کیا مسائل ہیں؟
براہ کرم، جواب دیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 860-718/D=09/1440
بغرض حفاظت بینک میں رقم جمع کرنے کی گنجائش ہے بینک والے اس سے نفع کمائیں یہ ان کا عمل ہے لیکن رقم جمع کرنے والے مسلمان کو کسی طرح کا نفع حاصل کرنا جائز نہیں لہٰذا بینک والے اگر اضافی فائدہ پہونچانے پر کچھ چارج لیتے ہیں تو مسلمان کو اسے ادا کرنا چاہئے مثلاً منی ٹرانسفر چارج، اے ٹی ایم چارج، چیک بک چارج وغیرہ اگر اس کے علاوہ اور بھی چارج لیتے ہیں تو ان کی صراحت کرکے حکم معلوم کریں۔
(۲) بیاج کے طور پر جو اضافی رقم اکاوٴنٹ میں آتی ہے اسے بینک سے نکال کر غرباء پر صدقہ کردیں خود استعمال کرنا جائز نہیں۔
(۳) کرنٹ اکاوٴنٹ میں پیسے جمع رکھیں اس میں سنا ہے کہ سود نہیں ملتا یا بہت کم ملتا ہے اور جو خدمات بینک فراہم کرتا ہے ان کا چارج لے لیتا ہے یہ جائز ہے اس میں اکاوٴنٹ کھلوانے میں کوئی گناہ نہیں۔
سیونگ اکاوٴنٹ میں بھی مجبوراً کھلوا سکتے ہیں لیکن جو سود کی رقم ملے اسے نکال کر غرباء پر صدقہ کردیں۔ فکسڈ اکاوٴنٹ میں رقم جمع کرنا جائز نہیں حرام ہے اور اضافی ملنے والی رقم سود ہے جس کا صدقہ کرنا واجب ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :170195
تاریخ اجراء :May 29, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ