1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

کیا سود کی رقم سود کی مد میں دے سکتے ہیں؟

سوال

کیا سود کی رقم سود کی مد میں دے سکتے ہیں؟ مثلاً زید کا بینک میں سیونگ اکاؤنٹ ہے جس سے سود حاصل ہوتا ہے ، دوسری طرف زید نے بینک کے ذریعہ فینانس پر گاڑی لی ہے . اب سوال یہ ہے کہ گاڑی پر جو سود لگ رہا ہے اس کو بینک سے حاصل شدہ سود کے ذریعہ ادا کیا جاسکتا ہے ۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 837-723/B=08/1440
جی ہاں! سرکاری بینک سے ملا ہوا سود دوسرے سرکاری بینک کے سود میں دے سکتے ہیں۔ مالِ حرام جہاں سے آیا ہے وہیں چلا جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169935
تاریخ اجراء :Apr 30, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ