1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

مشین اور جامد اثاثے كے ساتھ رقم کو کرایہ پر دینا كیسا ہے؟

سوال

زید نے عمرو کے ساتھ مضاربت کا معاملہ کیا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد مضاربت کا معاملہ ختم کر کے زید نے اپنا مکمل مال، مشینیں اور پارٹیوں کے پاس جو رقم ہے وہ سب زید نے عمرو کو بارہ ہزار روپے ماہانہ کرایہ پر دے دیا۔ سوال یہ ہے کیا اس طرح سے کرایہ پر دینا درست ہے ،اور اگر دیئے ہوئے کچھ عرصہ ہو گیا ہو تو کیا گزرے ہوئے مہینوں کا کرایہ وصول کیا جاسکتا ہے ؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:890-822/L=9/1440
مشین اور جامد اثاثے کو کرایہ پر دینا درست ہے ؛البتہ رقم کو کرایہ پر دینا جائز نہیں یہ سودی لین دین کے مرادف ہے ؛اس لیے مذکورہ بالا صورت میں مشینوں کے ساتھ رقم کو بھی کرایہ پر دینا درست نہیں اور اس کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہوگیا ،جواز کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ صرف جائیداد اور جامد اثاثے کو متعین رقم کے عوض کرایہ پر دیا جائے اس کے ساتھ رقم نہ ملائی جائے۔
 ولا تجوز إجارة الدراہم، والدنانیر ولا تبرہما وکذا تبر النحاس والرصاص ولا استئجار المکیلات والموزونات؛ لأنہ لا یمکن الانتفاع إلا بعد استہلاک أعیانہا، والداخل تحت الإجارة المنفعة لا العین.(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع 4/ 175،الناشر: دار الکتب العلمیة) وفی الہندیة: ولا تجوز إجارة الدراہم والدنانیر ولا تبرہما وکذا تبر النحاس والرصاص.(الفتاوی الہندیة 4/ 453)
اگر ان اشیاء کو کرایہ پر دیے ہوئے کچھ عرصہ گذر گیاہو تو رقم کے عوض کچھ لینا تو جائز نہ ہوگا ؛البتہ مشینوں وغیرہ کی جو اجرت مثل بنتی ہو اس کے لینے کی گنجائش ہوگی ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169933
تاریخ اجراء :May 13, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ