1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

ٹرم انشورنس کرانا جائز ہے یا نہیں؟

سوال

ایک پروپرٹی کے چکر میں نہ چاہتے ہوئے بھی مجھ پر بہت زیادہ قرض ہوگیاہے، بینک سے بھی لینا پڑا، اسے تھوڑا تھوڑا ادا بھی کررہا ہوں ، مگر نہ چاہتے ہوئے بھی اکثر یہ خیال آتا رہتاہے کہ اگر کوئی حادثہ ہوگیا تو وہ قرض کیسے چکا یا جائے گا، اسی سلسلے میں ایک دوست نے بتایا کہ ٹرم انشورنس کرالو ، اس میں ایک طے مدت تک ہر مہینے کمپنی کو انسٹالمنٹ(قسط) دینی ہے، اگر اس طے مدت میں کوئی حادثہ پیش آجاتاہے ، مثلاً انتقال ہوجاتاہے تو کمپنی کافی بڑی رقم دیتی ہے ، لیکن اگر طے مدت میں کوئی حادثہ نہیں ہو تو نہ تو کوئی پیسہ ملتاہے جو ہم نے کمپنی کو دیا ہے اور نہ ہی کوئی انٹریسٹ ملتاہے، جیسے کسی بائک کا انشورنس کرایا جاتاہے ، مہربانی کرکے بتائیں کہ یہ ٹرم انشورنس کرانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 820-682/B=08/1440
آپ کے دوست نے جو مشورہ دیا ہے وہ شرعاً صحیح نہیں ہے۔ انشورنس کی پالیسی میں ”قمار“ (جوا) بھی پایا جاتا ہے اور ”سود“ بھی پایا جاتا ہے اور یہ دونوں قرآن پاک میں قطعی حرام بتائے گئے ہیں۔ لہٰذا انشورنس کرانا آپ کے لئے جائز نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169927
تاریخ اجراء :Apr 16, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ