1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

مجبوری میں میڈیكل انشورنس لینا كیسا ہے؟

سوال

میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہوں جہاں کمپنی نے مجھے میڈیکل انشورنس کروا کے دی ہوئی ہے ۔ مگر میری بیوی اور بچی کے واسطے کوئی سہولت نہیں ہے ۔ اوپر سے کمپنی کا کوئی بھروسہ بھی نہیں کہ کب ملازمت سے نکال دے تو کیا میں ایسی صورت میں بیوی اور بیٹی کی میڈیکل انشورنس کروا سکتا ہوں تاکہ مجھے کچھ بچت مل سکے ؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:855-743/L=8/1440
میڈیکل انشورنس میں سود اور قمار کے معنی پائے جاتے ہیں اور سود وقمار بنص قطعی حرام ہیں؛ لہٰذا میڈیکل انشورنس کرانا جائز نہیں؛ اس لیے آپ اس چکر میں نہ پڑیں فقر کا خوف دلانا یہ شیطان کا کام ہے اور اس موہوم خوف کی وجہ سے حرام کا ارتکاب کرنا اور بھی قبیح ہے، اگر آپ رقم بچانا ہی چاہتے ہیں تو کچھ اخراجات کو قابو میں کرتے ہوئے ہرماہ کچھ رقم بچاسکتے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169713
تاریخ اجراء :Apr 18, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ