1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

پرائیویٹ بینک کی سودی رقم سے انکم ٹیکس ادا کرنا

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے بینک اکاؤنٹ میں انٹریسٹ کے پیسے آجاتے ہیں کیا ہم ان پیسوں کو بینک سے کٹنے والے چارجیز ،جیسے اے ٹی ایم۔آرٹی جی ایس، الرٹ سیوا، وغیرہ میں کٹوا سکتے ہیں؟ اور ہم بینک سے آنے والے سودی پیسو ں سے اپنا انکم ٹیکس بھر سکتے ہیں یا اپنا ہاؤس ٹیکس دے سکتے ہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 821-719/H=07/1440
سرکاری بینک سے ملنے والی سودی رقم کے ذریعہ انکم ٹیکس کی ادائیگی درست ہے، البتہ پرائیویٹ بینک سے ملنے والی سودی رقم کے ذریعہ انکم ٹیکس کی ادائیگی درست نہیں، بلکہ بلانیت ثواب اس کا تصدق ضروری ہے، اور اے ٹی ایم، آرٹی جی ایس ، الرٹ سیوا ، میں جو رقم لی جاتی ہے، وہ اپنی حق المحنت کے طور پر لیتے ہیں، ظالمانہ اور بے جا ٹیکس کے طور پر نہیں لیتے ہیں، اس لئے اس میں انٹریسٹ کے پیسے نہیں دیئے جاسکتے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169406
تاریخ اجراء :Mar 25, 2019

فتوی پرنٹ