1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاملات
  3. سود و انشورنس

پردھان منتری یوجنا كے تحت لون لینا؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنے والدین کے ساتھ ان کے گھر میں رہتاہوں، اس گھر میں کافی سالوں سے کچھ اثرات ہیں جس کے نتیجے میں ہمارے تین بھائی اس گھر سے الگ ہوکر دوسری جگہ رہنے لگے ہیں، بھائی لوگوں کی اہلیہ پر اثرات تھے جس کی وجہ سے ان لوگوں کو گھر چھوڑنا پڑا، میری اہلیہ عالمہ ہے وہ بھی ذہنی طورپر ہر وقت پریشان رہتی ہے اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا رہتی ہے، وہ بھی اس گھر سے بہت زیادہ پریشان ہے اور اس گھر میں اب رہنا نہیں چاہتی ، میرے بوڑھے والدین میرے ساتھ ہیں ، میں ان کو چھوڑ کے الگ نہیں رہ سکتا ہوں، اور وہ کرائے کے مکان میں جانے کو تیار نہیں ہیں، لہذا، گھر بیچنے کی بھی کوشش کی، لیکن ابھی تک نہیں رہ رہاہے ، میں نوکری کرتاہوں، کیا میں پردھان منتری یوجنا(PMAY) کے تحت لون لے سکتاہوں جس میں 2.67لاکھ کی سبسڈی ملے گی جواصل رم سے منہا ہوجائے گی؟ دس سال کے لیے یہ اٹھارہ لاکھ کے لون پر بینک کو 24.5لاکھ روپئے دینے پڑیں گے، دو لاکھ کے ہوم لون پر ٹیکس سے راحت بھی ملتی ہے ، لہذا، لون کی رقم میں سے انٹریسٹ کی رقم پرٹیکس سے راحت ملے گی، کیا اس صورت حال میں ہم ہوم لون لے سکتے ہیں؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 673-535 /SN=07/1440
(الف) سبسڈی کے باوجود صورت مسئو لہ میں آپ کو ایک بڑی رقم بہ طور سود ادا کرنی پڑے گی تو درحقیقت یہ بھی سودی قرض کا معاملہ ہے اور قرآن و حدیث میں سود لینے اور دینے دونوں پر سخت وعیدیں آئی ہیں؛ اس لئے اس یوجنا کے تحت آپ کے لئے ہوم لون لینا شرعاً جائز نہ ہوگا، تعمیر مکان کے لئے کوئی اور مباح ذریعہ تلاش کریں۔
(ب) گھر میں روزانہ سورہٴ بقرہ کی تلاوت کا معمول بنائیں، یہ اثرات کے ختم ہونے میں بہت مفید ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :169382
تاریخ اجراء :Mar 20, 2019

PDF ڈاؤن لوڈ