1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. اخلاق و آداب

کیا ساس بہو کو ڈانٹ سکتی ہے؟

سوال

کیا ساس اپنی بہو پر حق جتا سکتی ہے؟ جیسے بہو پر زور ڈالے کہ اسے پکا کر دے اور اس کے گھر کا خیال رکھے۔ اگر کہیں کچھ کمی ہو جائے بہو سے تو کیا ساس بہو کو ڈانٹ سکتی ہے؟ کیونکہ جہاں تک اسلام میں آتا ہے کہ داماد بیٹے کے برابر ہوتا ہے جب کہ بہو کے بارے میں تو ایسا کچھ کہیں نہیں لکھا ہوا ہے، جب کہ بہو بہت فرمانبردار ہے بدکلامی بھی نہیں کرتی ہے ساس سے، پھر بھی ساس چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت بڑے الفاظ میں ڈانٹتی ہے تو کیا یہ صحیح ہے؟
مہربانی ہوگی اگر اس کا جواب دیں تو۔ جزاک اللہ

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 1227-1054/D=10/1439
بہو اپنی ساس کو مثل ماں کے سمجھے اس کا ادب احترام کہنا ماننا مثل ماں کے کرے۔ اور ساس بھی بہو کو مثل بیٹی کے سمجھے شفقت محبت کے ساتھ بات کرے حکم نہ چلائے اپنی نوکرانی نہ سمجھے۔ بیٹی کی تربیت میں کبھی ڈانٹنے اور سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے بہو کے ساتھ بھی ایسا کرسکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرے موقعہ پر بہو کی دلجوئی اور راحت رسانی کی پوری فکر اور کوشش کرے ۔ حاصل یہ کہ بہو مثل بیٹی کے ساس کے ساتھ رہے اور ساس مثل ماں کے رہے۔ ساس حکم چلانے سے اور بہو زبان چلانے سے بچیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :162947
تاریخ اجراء :Jul 5, 2018

فتوی پرنٹ