1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. اخلاق و آداب

قبلہ کی طرف پیر پھیلاکر بیٹھنے اور سونے کا حکم۔ اور اگر جگہ کی تنگی کی وجہ سے ایسا ہو تو کیا حکم ہے؟

سوال

حضرت، قبلہ کی جانب پیر کر کے سونا یا بیٹھنا کیسا ہے؟ اگر جگہ کی کمی کی وجہ سے کوئی قبلہ رخ پیر کرکے سوتا ہے تو کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:1167-979/N=11/1439
(۱): جان بوجھ کر قبلہ کی جانب پیر پھیلاکر بیٹھنا یاسونا مکروہ ہے۔
یکرہ مد الرجلین إلی القبلة فی النوم وغیرہ عمداً الخ (رد المحتار، کتاب الطھارة، باب الأنجاس، ۱: ۵۵۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
(۲): اگر اتفاقاً جگہ کی تنگی کا عذر پیش آجائے تو قبلہ کی طرف پیر پھیلاکر سوجانے کی گنجائش ہے۔ اور اگر مستقل کا معمول ہو تو اس کا کوئی مناسب حل ڈھونڈنا چاہیے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :163580
تاریخ اجراء :Jul 31, 2018

فتوی پرنٹ