1. دار الافتاء دار العلوم دیوبند
  2. معاشرت
  3. اخلاق و آداب

میں نے ایک انسان کی حق تلفی کی (مذاق، غیبت وغیرہ) اب اس سے معافی مانگتا ہوں تو معاف نہیں کرتا۔ کیا کرنا چاہیے؟ نیز جو معاف نہ کرے اس کی مذمت میں قرآن و حدیث کیا کہتے ہیں اور میراکیا بنے گا اوروہ شخص اللہ کے لیے جسم بھی ثاب

سوال

میں
نے ایک انسان کی حق تلفی کی (مذاق، غیبت وغیرہ) اب اس سے معافی مانگتا ہوں تو معاف
نہیں کرتا۔ کیا کرنا چاہیے؟ نیز جو معاف نہ کرے اس کی مذمت میں قرآن و حدیث کیا
کہتے ہیں اور میراکیا بنے گا اوروہ شخص اللہ کے لیے جسم بھی ثابت کرتا ہے؟


جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی:
1112=1112/م         
 
جو
شخص اللہ کے لیے جسم ثابت کرتا ہو وہ بدعقیدہ ہے، اگر کوئی اس کے گمراہ کن عقائد
کو لوگوں سے اس لیے بیان کرے تاکہ لوگ اس کی اصلاح کریں یا اس سے بچیں تو یہ غیبت
میں داخل نہیں، صورت مسئولہ میں آپ نے جس کی غیبت کی ہے اگر وہ واقعی غیبت ہے تو
اس سے معافی مانگنے کی ضرورت ہے، اور معافی مانگنے کے باوجود اس شخص کا معاف نہ
کرنا سخت دل کی بات ہے، اللہ تعالیٰ معاف کردینے کو پسند کرتے ہیں، احادیث میں بھی
معاف کردینے کی بہت تاکید آئی ہے، اگر وہ معاف نہ کرے تو آپ برابر معاف کرانے کی
کوشش جاری رکھئے، اس کی تعریف میں مبالغہ اور اس سے محبت کا خوب اظہار کیجیے،اگر
ہدیہ تحائف کے ذریعہ اس کا دل نرم ہوسکے تو اس میں بھی دریغ نہ کیجیے، زندگی میں
معافی تلافی نہ ہوسکی ہو تو انتقال کے بعد اس کے لیے دعا اور ایصال ثواب کرتے رہیے،
ان شاء اللہ یہی عمل آپ کے گناہ کا کفارہ بن جائے گا․․ ویعتذر إلیہ لیسمح عنہ بأن یبالغ في
الثناء علیہ والتودد إلیہ ویلازم ذلک حتی یطیب قلبہ، وإن لم یطب قلبہ کان اعتذارہ
وتوددہ حسنة یقابل بہا سیئة الغیبة في الآخرة ․ وعلیہ أن یخلص في الاعتذار وإلا فھو ذنب آخر (شامي)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


ماخذ :دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر :14361
تاریخ اجراء :میں نے ایک انسان 

PDF ڈاؤن لوڈ